ایچ ڈی اے شعبہ واسا ملازمین کے مسائل اور ان کاحل

97

ایچ ڈی اے ایمپلائز یونین (CBA)طویل عرصہ سے HDAشعبہ واسا کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور دیگر واجبات کی بروقت ادائیگی کرانے کی جدو جہد کر رہی ہے مگر تمام تر کاوش، کوشش کے باوجود شعبہ واسا کے ملازمین اب تک مالی بحران میں مبتلا ہیں جس کی بنیادی وجہ حیدرآباد میں موجود صوبائی اور وفاقی حکومت کے اداروں کا واٹر اینڈ سیوریج کی مد میں بلوں کی ادائیگی نہ کرنا ہے جب کہ حیدرآباد کہ شہریوں کی بھی بڑی تعداد واٹر اینڈ سیوریج کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتی ہے جس کی وجہ سے اس شعبہ کے ملازمین کو 9 سے 11مہینے کی تنخواہیں، پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی نہیں ہو پار ہی جب کہ گزشتہ23سال سے اس شعبہ میں ریٹائرڈ اور انتقال ہونے والے ملازمین کی جگہ ورک چارج/کنٹریکٹ پر ملازم رکھے ہوئے ہیں اور ان کو صرف 10ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جار ہی ہے جب کہ حکومت سندھ کی جانب سے کم از کم تنخواہ 25ہزار روپے ماہانہ کی بنیاد پر مقرر ہے جب کہ تمام ریگولرملازمین کے پروموٹ ہونے پر تقریباگریڈ 1 کی 800 سے زائد پوسٹیں موجود ہونے کے باوجود انہیں ریگولر نہیں کیا جارہا ہے جبکہ HDA ایمپلائز یونین CBA نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو گزشتہ 13 سالوں سے ان دونوں انتہائی حساس اور سنگین بنیاد ی مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے سے متعلق تجاویز اور حل بھی پیش کرتے رہے ہیں مگر ہمارے ان مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے HDA شعبہ واسا کے ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور دیگر واجبات کے علاوہ ورک چارج /کنٹریکٹ ملازمین کے مسائل کو حل کروانے کے لیے HDA ایمپلائز یونین CBA نے مسلسل احتجاجی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے جلسے جلوس مظاہرے اور ہڑتالیں کی جس کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری حکومت سندھ کو اس دیرینہ مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت کی روشنی میں 24 فروری 2017 کو چیف سیکرٹری سندھ کی سربراہی میں تمام متعلقہ سیکرٹری کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں طے پایا کہ بجٹ 2017-2018 ان تمام سرکاری ڈپارٹمنٹوں پر واجب الادا ہونے والی ماہانہ رقم جو کہ ساڑے تین کروڑ روپے سے زیادہ ماہانہ ہوتی ہے شامل کیا جائیگا اور یہ رقم منہا کر کے ہر ماہ شعبہ واسا کو ادا کی جائیگی جب کہ ان محکموں پر موجودہ بقایا جات بھی ادا کئے جائیں گے اور مستقبل میں ماہانہ بنیادوں پر بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائیگا مگر افسوس کے اس فیصلے پر اب تک اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں پر بہت سے سیکرٹری صاحبان نے یہ اعتراض کیا کہ شعبہ واسا نے ہمارے ذمہ جو رقم بلوں میں ڈالی ہوئی ہے وہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے فیصلہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے جس پر HDA ایمپلائز یونین نے اپنی جدوجہد جاری رکھی جس کے نتیجے میں 03-09-2019 میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر حیدرآباد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے محکموں کے سربراہان سے ملاقاتیں کرکے ان کے محکموں کے ذمہ واجب الادا رقم کا تعین کرنا تھا کمیٹی نے تمام محکموں کے سربراہان سے ملاقات کرکے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کردی جس کے مطابق ان محکموں کے ذمہ سالانہ 471377780 روپے بنتے ہیں اور گزشتہ عرصہ کے بقایا جات اس کے علاوہ ہیں کمیٹی کی رپورٹ کے باوجود 2020-21 کے بجٹ میں یہ محکمہ کے ذمہ واجب الادا رقم ان کے حسابات سے منہا کرکے واسا کے حسابات میں شامل نہیں کی گئی جس کی وجہ سے شعبہ واسا کے ریگولر ملازمین کے 8 مہینے، ورک چارج / کنٹریکٹ ملازمین کے 11 مہینے کی تنخواہیں اور واجبات ادا نہیں کی گئی بلکہ پنشنرز ملازمین اور ان کی بیوائوں یتیم بچوں کو 9 مہینے کی پنشن کی ادائیگی نہیں ہوسکی جبکہ تقریبا 70 سے زائد ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے واجبات نہیں مل سکے اس تمام صورتحال پر HDA ایمپلائز یونین نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ تمام اعلیٰ حکام کو اپنے خطوط کے ذریعے متوجہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے کمشنر حیدرآباد کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق 471377780 روپے آئندہ مالی سال 2021-22 کے بجٹ میں ان محکموں سے اس رقم کو منہا کر کے واسا کے حسابات میں شامل کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر واسا کے اکائونٹ میں جمع کرائی جائے تاکہ شعبہ واسا کے ملازمین تنخواہیں، پنشن کے دیرینہ مسئلہ کا مستقل حل ہو سکے۔ دیگر یہ کہ ورک چارج کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کروانے کے لئے جدوجہد جاری رکھی جس کی وجہ سے HDA انتظامیہ یہ بات ماننے پر مجبور ہوئی کہ ان تمام ملازمین کو سنیارٹی کی بنیاد پر ریگولر کروانے کے لئے حکومت سندھ سے جلد از جلد اجازت لے کر ان ورک چارج کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائیگا ان دونوں مسائل کے مستقل بنیادوں پر حل ہونے پرشعبہ واسا کے ملازمین کے ساتھ HDAانتظامیہ اور حیدرآباد کے شہری بھی روز روز کی ہڑتالیں، جلسے جلوسوں کی وجہ سے اس شعبہ کی خراب کارکردگی کی وجہ سے نجات حاصل کر سکیں گے ۔