ریلوے کو تباہی سے بچایا جائے

111

جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، پریم یونین کے مرکزی چیئرمین ضیاء الدین انصاری، مرکزی صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیر محمد تونیو، ڈویژنل صدر ارشد یوسفزئی، نائب امیر بلوچستان جماعت اسلامی مولانا عبدالکبیر شاکر، عبدالرحیم میر داد خیل، ملک اکرم بنگلزئی، غوث بخش لاشاری، قدرت اللہ بڑیچ، اللہ بخش مری، لال جان بلوچ، محمد اکرام کنڈی، زاہد جاوید، جاوید احمد خان سمیت دیگر نے کہا ہے کہ ریلوے کی نجکاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کوئٹہ سے اندرون ملک چلنے والی بند ٹرینوں کی بحالی سمیت ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے بہت جلد ملازمین، سیاسی جماعتوں، لیبر تنظیموں کے ہمراہ مل کر اپنے مطالبات کے حق میں ریلوے ہیڈکوارٹر کا گھیرائو کریں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت، محکمہ ریلوے کے وزیر، چیئرمین ریلوے اور ارباب اختیار پر عائد ہوگی۔ مطالبات کے حصول تک ہمارا پرامن آئینی، جمہوری احتجاج جاری رہے گا۔ نجکاری کے خلاف مہم کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں ریلوے پریم یونین سی بی اے کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے سے قبل ملک اور قوم سمیت اداروں کی بہتری کے لیے جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے وہ اقتدار میں پہنچ کر ریت کی دیوار ثابت ہوئے جس کی وجہ سے دیگر محکموں، شعبوں، اداروں کی طرح پاکستان ریلوے کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچانے اور لاکھوں لوگوں کو سفری سہولیات سے محروم کرکے ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرکے انہیں نان شبینہ کا محتاج بنانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جارہا اور ریلوے کو تجربہ گاہ بناتے ہوئے نان پروفیشنل لوگوں کو اس وزارت سے جوڑ کر محکمے کی رہی سہی ساکھ کو تباہ کردیا گیا اور ملازمین کو بے روزگار کرکے محکمے کی نجکاری کے لیے گرائونڈ بنا کر اس کو کوڑیوں کے دام اپنے منظور نظر لوگوں کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی بنائی جارہی ہے۔ جس کو پاکستان ریلوے پریم یونین اور دیگر ملازمین اپنی جانوں پر کھیل کر ناکام بنائیں گے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سرزمین کو قدرت نے قدرتی وسائل سے نواز رکھا ہے اور حکمران بھی برملا اس کا بات کا اظہار کررہے ہیں کہ پاکستان کی ترقی بلوچستان سے وابستہ ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات اور جدید دور کے مطابق سفری سہولیات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حکمران ریلوے کی نجکاری کے فیصلے کو ترک کرکے حکومت کمر توڑ مہنگائی کا خاتمہ کرے، کوئٹہ سے اندرون ملک چلنے والی کئی سالوں سے بند ٹرینوں کو بحال کرے اور ملازمین کو بقایا جات اور واجبات کی ادائیگی فوری طور پر یقینی بناتے ہوئے ریلوے ہائوسنگ سوسائٹی کے پلاٹوں کی صاف اور شفاف قرعہ اندازی کرائی جائے۔ سبی ہرنائی سیکشن جو کئی سالوں سے بند ہے کو بحال، ملازمین کی اپ گریڈیشن کرکے کوئٹہ ڈویژن میں بھرتیوں پر عائد پابندی کا خاتمہ کیا جائے اور ٹی ایل اے و پی ایم پیکیج کے ملازمین کی مستقلی سمیت پریم یونین کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل تمام نکات پر عملدرآمد کیا جائے۔ بصورت دیگر ریلوے کے محنت کش ملک بھر میں شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔جلسے کے اختتام پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔