سول سپرمیسی یا فاشسٹ بننے کی آرزو

278

وزیراعظم عمران خان نوٹیفیکیشن پر دستخط کریں یا نہ کریں جن کے تقرر اور تبادلے ہوئے ہیں وہ اپنے اپنے عہدوں کا چارج سنبھالنے کے لیے سفر کی تیاریاں کررہے ہیں۔ جن کو دستخط کرنے تھے انہوں نے دستخط کردیے۔ جنرل محمد عامر نے گوجرانوالہ کے کور کمانڈر کی حیثیت سے چارج سنبھال لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ 18اکتوبر کے بعد ہی کسی وقت نوٹیفیکیشن پر دستخط کریں گے جب علم فلکیات کے مطابق مشتری اور زحل دو اہم ستارے جو مئی کے مہینے سے پکڑ میں ہیں گرداب سے نکل کر ہموار راستے پررواں دواں ہوجائیں گے۔ جب یہ ستارے پکڑ میں ہوں ان دنوں کوئی بڑا اور اہم کام کرنا درست نہیں ہے۔ گیارہ اکتوبر کو زحل اور 18اکتوبر کو مشتری گردش سے نکل جائیں گے۔ دنیا بھر کے اکثر حکمرانوں کی طرح ہمارے حکمرانوں کی اکثریت بھی توہم پرستی میں مبتلا رہی ہے۔ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو پیر صاحب دھنکا شریف کے عقیدت مند تھے اور ان سے چھڑیاں کھانے کو خوش بختی باور کرتے تھے۔ صدر آصف علی زرداری لاہور کے پیر اعجازسے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کو اندرون خانہ ہی روحانی فیض اور زلف گرہ گیر یکجا دستیاب ہیں۔ بہرحال جنرل ندیم انجم ہی نئے ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے۔ انہیں بھی ایک شخصیت کا فیض حاصل ہے وہ ہیں جنرل با جوہ۔ ایک فلم میں امیتابھ بچن کہتا ہے ’’میرے پاس دولت ہے، بنگلہ ہے کار ہے تیرے پاس کیا ہے؟‘‘ ششی کپور کہتا ہے ’’میرے پاس ماں ہے‘‘۔ پاکستان کی سیاست میں یہ درجہ آرمی چیف اور اب ان کے ساتھ ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی کو حاصل ہے۔
جنرل ندیم انجم وزیراعظم عمران خان کے دور میں تیسرے ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2018 اور جنرل فیض حمید 2019 میں ڈی جی آئی ایس آئی نامزد کیے گئے تھے۔ اس وقت ان تعیناتیوں پر وزیراعظم کا سینہ بوجھل ہوا تھا اور نہ انہیں اپنے آئینی اختیار یاد آئے تھے حالانکہ نہ انہیں تین ناموںکی سمری ارسال کی گئی تھی اور نہ ہی انہوں نے اس پر اصرار کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے سال تو انہیں یاد ہی نہیں رہتا تھا کہ وہ وزیراعظم بن گئے ہیں۔ بشریٰ بی بی آگاہ کیا کرتی تھیں کہ حضور آپ ہی تو وزیراعظم ہیں۔ دوسرے برس وہ کچھ کچھ وزیراعظم کے منصب سے ہم آہنگ ہوئے۔ انہیں کچھ کچھ ذمے داریوں کی سمجھ آنے لگی۔ تیسرے برس وہ حقیقتاً خود کو وزیراعظم سمجھنے لگے۔ وزیر وزرا اور حالی موالی بھی روز ایک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ عرض کرنے لگے۔ نتیجہ چوتھے برس میں داخل ہوتے ہوتے وہ یہ سمجھنے لگے کہ میں ہی مختار کل ہوں اور ہر کام میری مرضی اور علم سے ہونا چاہیے۔ یہ اکیلے عمران خان کی سرگزشت نہیں ہے پاکستان کے تقریباً تمام سویلین حکمرانوں پر چوتھے برس سے بلائیں منڈ لانے لگتی ہیں۔ ان بلائوں کا نام وہ سول سپرمیسی رکھ چھوڑتے ہیں۔
ہمارے سول حکمران اقتدار میں آنے کے بعد ایجنسیوں کو اپنے سیاسی مسائل اور اقتدار کی پریشانیوں سے نجات کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ بہت سی سیاسی بدعتوں کی طرح اس کا آغاز بھی پیپلز پارٹی کے بانی بھٹو صاحب نے کیا تھا۔ ان کے حکم پر آئی ایس آئی میں ایک سیاسی سیل بنایا گیا تھا جو ان کے سیاسی مخالفین پر نظر رکھتا تھا۔ سویلین حکمرانوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ آئی ایس آئی ہیڈ کواٹر میں اپنے بندے لائیں جس میں بیش تر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ آرمی قیادت آئی ایس آئی کو اپنا داخلی معاملہ سمجھتی ہے۔ جب کبھی وزیراعظم کی مرضی کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈی جی کا تقرر ہوا فوج نے اسے عضو معطل بنادیا۔ جنرل اسلم بیگ کے منع کرنے کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل شمس الرحمن کلّو کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا تو انہیں فوج سے زیادہ سیاست سے وفادار سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کور کمانڈرز اجلاس میں بلایا جاتا اور نہ ہی اہم فیصلوں میں شریک کیا جاتا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کے انتخاب جنرل ضیا الدین بٹ کے ساتھ یہی سلوک جنرل پرویز مشرف نے کیا۔
وزیراعظم عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار نے انہیں مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے یا یوں کہیں کہ اقتدار نے ان کے باطن کو مکمل طور پر ظاہر کردیا ہے۔ وہ زندگی میں بنائے گئے ہر تعلق کو اقتدار کے لیے لمحوں میں قربان کرسکتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے تسلسل اور بقا کے لیے وہ بڑے سے بڑے ریاستی مفاد کو اپنے پیروں تلے با آسانی روند سکتے ہیں۔ عثمان بزدار جیسے نااہل شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے اس لیے بنا رکھا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ان کی گرفت میں رہے۔ عثمان بزدار سے ملنے والے کسی بھی شخص کو تھوڑی سی دیر میں ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ تین برس میں امن وامان، معاشی اور انتظامی معاملات سے لیکر دیگر معاملات تک انہوں نے صوبے کا بیڑہ غرق کردیا۔ فوج کی ہائی کمان سے لے کر ان کے خیر خواہوں تک سب نے زور لگا لیا لیکن وہ عثمان بزدار کو ہٹانے پر تیار نہیں۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ عمران خان ہر ذہین اور قابل آدمی سے اس لیے خوفزدہ ہیں کہ کہیں وہ ان کے اقتدار کو نقصان نہ پہنچادے۔ کم صلاحیت لوگ ہی انہیں سوٹ کرتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے دوستوں نے کس کس طرح اس ملک کو نقصان پہنچا یا ہے۔ ہر اسکینڈل میں ان کے کسی نہ کسی دوست کا نام نکل آتا ہے جو اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہے لیکن انہوں نے اپنے کسی ایسے دوست کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا کیونکہ وہ انہیں اپنے اقتدارکے لیے طاقت تصور کرتے ہیں۔ پنڈورا پیپرز میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم اتحادی سمیت، کابینہ کے تین ارکان ان کے اہل خانہ، پاکستان کی فضائیہ کے سابق سربراہ کے اہل خانہ سمیت بری فوج کے اہم عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ اور تمام بڑے بڑے میڈیا ہائوسز کے مالکان کے نام شامل ہیں لیکن نہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا، نہ جے آئی ٹی بنی اور نہ ہی کسی جج کی انصاف کی کوئی رگ پھڑ پھڑائی کیونکہ ایسا کرنا ملک وقوم کے کتنا ہی مفاد میں ہو حکومت کے مفاد میں نہیں ہے۔ ان افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے حکومت نے ایک سیل بنانے پر اکتفا کیا کیونکہ مذکورہ اکثر افرد کو عمران خان اپنے اقتدار کے لیے طاقت تصور کرتے ہیں۔
چیئرمین نیب بھی ان کی ایسی ہی طاقت ہیں۔ مجال ہے بڑے سے بڑے اسکینڈل پر انہوں نے عمران خان کے کسی وزیر یا دوست پر ہاتھ ڈالا ہو البتہ اپوزیشن رہنمائوں پر جھوٹے مقدمات بنانے اور انہیں جیلوں میں بھیجنے پر انہیں ضمیر کی کسی ملامت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بات سامنے آئی کہ عمران خان چیئرمین نیب کو مزید چار سال تک عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے نیب قوانین میں کچھ ترامیم کرنا چاہتے ہیں تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔ لیکن جب نیب آرڈی ننس سامنے آیا تو پتا چلا اصل کھیل کچھ اور ہے اور یہ کھیل اتنا ڈرائونا اور خوفنا ک ہے کہ لوگ چکرا کر رہ گئے۔ ایسی جرأت تو نواز شریف اور زرداری بھی نہ کرسکے۔
صدر عارف علوی نے جو نیب آرڈی ننس جاری کیا ہے اس کے مطابق نیب آئندہ خان صاحب کی کابینہ میں کیے گئے کسی بھی فیصلے پر کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا۔ کابینہ کی اہم ذیلی کمیٹیوں جن میں اکنامک کو آرڈی نیشن سے لے کرنج کاری کمیٹی، ایکنک، این ای سی اور دیگر کمیٹیوں اور اداروں کو نہیں چھیڑا جائے گا جن میں اربوں کے فیصلوں میں دوستوں کو فائدے پہنچائے گئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیت باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی۔ عثمان بزدار چار ارب روپے کے شوگر اسکینڈل میں ملوث ہیں عمران خان خود کچھ ایسے ایشوز میں ملوث ہیں جو اقتدار سے ہٹتے ہی ان کے لیے مصیبت بن جائیں گے نیب آرڈی ننس کے بعد اب حکومت کو ایسا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ فاشسٹ بننے کی آرزو میں یہ ہے وہ سول سپرمیسی جس کا شہرہ کیا جارہا ہے۔