طالبان کی بھوک اور بیروزگاری سے نمٹنے کیلئے کام کے بدلے گندم کی مہم

216

کابل/چمن(صباح نیوز) افغانستان میں طالبان کی حکومت نے بے روزگاری اور بھوک سے نمٹنے کے لیے نیا پروگرام شروع کردیا جس کے تحت ہزاروں افراد کو کام کے بدلے گندم فراہم کرنے کی پیش کش کی جا رہی ہے۔ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ اسکیم افغانستان بھر میں بڑے شہروں اور قصبوں میں شروع کی جائے گی اور صرف دارالحکومت کابل میں 40 ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بے روزگاری سے مقابلہ کرنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے اور مزدوروں کو سخت محنت کرنی چاہیے۔افغانستان پہلے ہی غربت، خشک سالی، بجلی کی بندش اور معاشی نظام کی ناکامی کا شکار ہے اور اب خزاں کا مشکل موسم ان کا منتظر ہے۔ طالبان کا کام کے بدلے گندم فراہم کرنے کا فیصلہ مزدوروں کو ادائیگی نہیں بلکہ ان افراد کو ہدف بنایا گیا ہے جو اس وقت بے روزگار ہیں اور سردیوں کے دوران بھوک کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 2 ماہ کے اس پروگرام میں 11 ہزار 600 ٹن گندم دارالحکومت میں تقسیم کی جائے گی، تقریبا 55 ہزار ٹن ہرات، جلال آباد، قندھار، مزار شریف اور پل خمری سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں 55 ہزار ٹن تقسیم کی جائے گی۔کابل میں کام میں کنوئیں کھودنا اور پہاڑوں میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے آبی گزرگاہوں میں برف کے لیے ٹیرس بنانا شامل ہے۔کابل کے مضافات رش خور میں تقریب کے دوران ذبیح اللہ مجاہد اور طالبان کے دیگر سینئر عہدیداروں بشمول وزیر زراعت عبدالرحمن راشد اور کابل کے میئر حمداللہ نعمانی نے فیتہ کاٹا اور ایک چھوٹا گڑھا کھود کر پروگرام کا افتتاح کیا۔دوسری جانب چمن افغان سرحد کی طویل بندش کے نتیجے میں پاک افغان تجارت سے منسلک چمن کے 50ہزار تاجر بے روزگار ہوگئے۔ چمن افغان سرحد کی 18یوم بندش کے نتیجے میں چمن کے مقامی تاجروں کو یومیہ 10 کروڑ روپے کا کاروبار اور ڈیٹنشن کی مد میں نقصان پہنچ رہاہے۔چمن چیمبر آف کامرس کے سابق صدر جمال الدین اچکزئی نے بتایا کہ چمن سرحد کی 18 روزہ بندش کے نتیجے میں سرحد پار 1450خالی اور تازہ پھلوں خشک میوہ جات سمیت دیگر اشیا سے لدے پاکستانی ٹرکوں کی آمد رک گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے پاکستان سے مال سے لدے ٹرکس سرحد کے قریب رکے ہوئے ہیں جبکہ ان گاڑیوں کا عملہ بے یار و مدگار پڑا ہوا ہے جن کے پاس کھانے اور دیگر ضروریات کے لیے رقم بھی ختم ہوگئی ہے، درآمد و برآمدی سرگرمیوں کی معطلی سے ٹریڈ کے روزگار سے منسلک لاکھوں افراد بھی بے روزگار ہوگئے ہیں اور چمن کی مصروف ترین شاہراہ ویران ہوگئی۔