مذاکرات کامیاب: اسلام آباد سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں کنٹینرز سڑکوں پرتاحال موجود

217

لاہور: حکومت سے مذاکرات کے بعد بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت لاہور، راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر شہروں میں کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث رکھے گئے کنٹینرز سڑکوں پر ابھی تک موجود ہیں جبکہ جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ایکسپریس وے پر سڑک کے کنارے پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں، ہنگامی صورت میں کنٹینرز کو سڑک کے درمیان لگا کر روڈ بند کر دیا جائے گا جبکہ جہاں کنٹینرز نہیں رکھے گئے وہاں ٹریفک رواں دواں ہے، تاہم ریڈ زون میں داخل ہونے والے راستوں پر ابھی کنٹینرز موجود ہیں۔

خیال رہے کالعدم تنظیم کے لانگ مارچ سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت کے بعد بھی راولپنڈی میں راستے تاحال بند ہیں، میٹرو سروس بھی معطل ہے جبکہ نور الحق قادری کا کہناہے کہ آج تمام بند راستوں کو کھول دیا جائے گا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب حکومت سے مذاکرات کے بعد لاہور سے اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے کالعدم تنظیم کے شرکاء مرید کے میں موجود ہیں جبکہ گوجرانوالہ جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیئے گئے ہیں۔

گوجرانوالہ میں کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث جی ٹی روڈ پر لگائے گئے کنٹینرز ابھی تک نہیں ہٹائے گئے ہیں، سادھوکی اور وزیر آباد بائی پاس کے مقام پر جی ٹی روڈ اب تک بند ہے، گوجرانوالہ اور گجرات کے درمیان دریائے چناب پل کے قریب کھودی گئی خندق بھی پر نہیں کی جا سکی ہے۔

واضح رہے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کہہ چکے ہیں کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد اب تمام بند راستے کھول دیئے جائیں گے جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کے شرکاء منگل تک مرید کے میں بیٹھیں گے،  مظاہرین کے مطالبات کا جائزہ لے کر منگل تک پر امن طریقے سے معاملہ حل کر لیا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ مذہبی امور نور الحق قادری کا بھی کہنا تھا کہ آج تمام بند راستوں کو کھول دیا جائے گا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہو گا،   مطالبات کی منظوری کے بعد مظاہرین پر امن طور پر احتجاج ختم کر دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے گا، حکومت احتجاجی ریلی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور اور مشاورت کرے گی جبکہ سیکیورٹی اداروں کو سیکیورٹی سخت رکھنے کا کہا جارہا ہے۔