ڈی ای اے واسا کے ملازمین کا گیارہویں روز بھی احتجاج

92

حیدرآباد(اسٹاف رپرٹر)ایچ ڈی اے ایمپلائز یونین سی بی اے کی جانب سے شعبہ واسا کے ملازمین کی11 ماہ کی تنخواہیں، پنشن نہ ملنے اور ورک چارج کنٹریکٹ ملازمین کومستقل نہ کرنے سمیت وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے 70کروڑ روپے کی سمری کی منظوری میں تاخیر کے خلاف گیارہویںروز بھی حیدرآباد پریس کلب کے سامنے دو گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔اس موقع پر یونین کے آرگنائزراعجاز حسین، عطر خان چانگ، نیاز حسین چانڈیواورعبدالحمید سمیت دیگر نے کہا کہ ایچ ڈی اے شعبہ واسا کے مالی بحران کی سب سے بڑی وجہ حکومت سندھ پر عائد ہوتی ہے اب جبکہ ملازمین کی تنخوا میں پنشن اور دیگر،و اجبات کی تقریبا 70 کروڑ روپے سے زائد کی سمری جو کہ 27 ستمبر 2021 سے وزیر اعلی سندھ سے منظوری کے لئے وزیر بلد یا ت سندھ کی جانب سے روانہ کی گئی ہے اب تک اس سمری کو منظور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ملازمین میں شد یدغم وغصہ پایا جا رہاہے اور ملازمین تنخواہیں، پنشن نہ ملنے کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کی وجہ سے بھوک،افلاس اور نہایت تنگ دستی کی زندگی گزار پر مجبور ہیں ۔رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ اورایچ ڈی اے انتظامیہ ملازمین کی تنخواہیں ،پنشن اور دیگر واجبات کے علاوہ ورک چارج کنٹریکٹ ملازمین کوفوری ریگولر کرے دوسری صورت میں حیدرآباد کی واٹر سپلائی اور سیوریج کے نظام کو بند کر نے پر مجبور ہوں گے۔