گورنر باقر کی باتیں، کریلا وہ بھی نیم چڑھا

363

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانچسٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر شرح تبادلہ میں فرق آنے کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ شرح تبادلہ بڑھنے سے کچھ لوگوں کو نقصان ہوا ہے تو کچھ اس سے مستفید بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرض کریں کہ رواں سال ہماری ترسیلات 30 ارب ڈالر پہنچ جاتی ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہوں گی اور اگر گزشتہ چند ماہ میں روپے کی قدر 10 فی صد بھی کم ہوئی ہے اور اوور سیز پاکستانیوں کے خاندانوں کو اضافی 3 ارب ڈالر ملیں گے جو 500 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے شاید اب بھی ملازم رضا باقر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر اقتصادی پالیسی سے کچھ لوگوں کو فوائد اور کچھ کو نقصان پہنچتا ہے لہٰذا جب ان کی نشاندہی کی جائے جو مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو ہمیں انہیں بھی نہیں بھولنا چاہیے جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کو برسوں سے اس سانحے کا سامنا ہے کہ ملک سے دوچار بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے کیوں پاکستان اور پاکستانیوں کو برا اور خود کو توپ سمجھنے لگتے ہیں اور غیروں کی محبت میں پاکستان اور پاکستانیوں کو ذلت آمیز صورتحال سے دو چار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے اس فساد پر پوری ریاست خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور ہر احمق شخص کو پاکستان کا بڑا سے بڑا عہدہ دے دیتے ہیں جس کی زد سے عوام کو مہنگائی بے روزگاری، بھوک افلاس اور بد ترین غربت کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ گورنر باقرکو یہ حق اور اختیار کس نے دیا ہے کہ پاکستانیوں کو کچھ لوگ کہہ کر مخاطب کریں اور اپنے اقتصادی ظلم و درندگی کو جائز قرار دیں۔ وہ اور ان کی پوری ٹیم پاکستان کی اقتصادی بقا اور سلامتی کے لیے خطرناک ہوتی جارہی ہے۔
اس کے بعد مرکزی بینک کے سربراہ نے ملک کے معاشی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جون میں اختتام پزیر ہونے والے مالی سال میں جی ڈی پی میں تقریباً 4 فی صد نمو دیکھی گئی۔ مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ حقیقی جی ڈی پی نمو کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کے مقابلے میں شہریوں کی آمدنی میں 4 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ تو ان کے لیے عرض ہے کہ آپ پاکستان کو مصر جیسی غربت بے روزگاری کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتے۔ اگر آپ شیشے کے گھر سے باہر آئیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ملک میں زندگی گزارنا ایک چیلنج ہمیشہ سے رہا ہے، مگر کبھی بے بسی اور پریشانی اپنی تباہ کن وسعتوں کے ساتھ ایسے حاوی نہیں ہوئی جیسے آج کل ہو رہی ہے۔ جن لوگوں کو پاکستان سے محبت ہے ان کے پاس پاکستان میں رہنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ مہنگائی ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہے، ایسا حصہ جس سے اب جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ مہنگائی میں زندگی گزارنا مشکل ہے۔ بجلی اور پٹرولیم کی مصنوعات میں مسلسل ہوشربا اضافے نے سب کچھ تہس نہس کر دیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نام نہاد یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی حکومت خود اپنے نرخوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی حکومت اور ان کے گورنر باقر تین سال سے ہر ماہ عوام سے مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا وعدہ کرتے ہیں اور ہر دوسرے مہینے قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنی صداقت کے خلاف شواہد بھی مہیا کرتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ یہ دوغلا پن مزید کھل کر سامنے آیا ہے۔ چند ماہ پہلے پنجاب میں بیوروکریسی کے سربراہ کو تبدیل کیا، پولیس کی ہائی کمانڈ کو ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی زد میں لایا گیا۔ کہا یہ گیا کہ پچھلی ٹیم مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی لہٰذا ہم کو کچھ نیا اہتمام کرنا تھا۔ نئی ٹیم نے ایک بریفنگ دی جس میں مہنگائی کو آٹھ سے 12 ہفتے میں لگام ڈالنے کے بلند وبانگ دعوے کیے گئے۔ سب کو پتا تھا کہ یہ حقیقت نہیں سب کچھ فسانہ ہے۔ چونکہ خانہ پری ہی اب پالیسی بن گئی ہے لہٰذا سب نے اس پر تالیاں بجائیں۔ نتیجہ عوام کے سامنے ہے۔ پنجاب سمیت پورے ملک میں بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیا، کرائے سب کچھ اب ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ پہلے چادر سر یا پاؤں میں سے ایک ڈھانپنے کے لیے کافی تھی اب ستر بھی چھپ جائے تو غنیمت ہے۔
حکومت اور گورنر باقر اب بھی اسی آئی ایم ایف کے قدموں میں بیٹھے امداد کی بھیک مانگ رہے ہیں جس نے عوام کی گردن پر پاؤں رکھا ہے اور اس نے پاکستان کے حالات کے پیش نظر جو مطالبے کیے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے اس کے نامزد کردہ افراد جو ملک کے کلیدی اداروں میں موجود ہیں، کسی طور نہ تیار ہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت ہے۔ اس مذاکراتی ٹیم کے چند ارکان کو پتا ہے کہ انہوں نے پاکستان سے ایک وقتی ناتا جوڑا ہوا ہے جو حالات کی تبدیلی کے بعد ختم ہو جائے گا۔ دوسرے ارکان اتنے مالدار ہیں کہ ان کی صحت پر قیامت خیز مہنگائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ ڈالروں میں کماتے ہیں، لوگوں کے پیسوں سے بینک چلاتے ہیں، اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے اپنے خزانے بھرتے ہیں، ان کی بلا سے ٹماٹر کی قیمت کیا ہے۔ یا سات ہزار بجلی کا بل جب 14 ہزار روپے کا بن جاتا ہے تو اس سے ایک خاندان کی نیندیں کیسے حرام ہوتی ہیں۔
یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کووڈ کی نحوست نے معیشت کو ہچکولے دیے، اگرچہ کورونا کے نام پر قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے مہیا کردہ امداد نے ریاست کے کھاتوں پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ اس کے باوجود اس وقت مہنگائی کی صورت حال کی ذمے داری فیصلہ سازی کے اس نظام کے علاوہ کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی، جس کا سر پیر سمجھنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ جس ملک میں وزیر خزانہ کے عہدے کی مدت چھے مہینے سے زیادہ نہ ہو اور جہاں معاشی معاملات کو نہ ختم ہونے والی بے معنی احتساب کی گردان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو، جہاں عوام کی ابتر حالت کو پروپیگنڈے کے ڈھولوں پر ناچ گانے کے ذریعے چھپایا جاتا ہو، وہاں سے آپ معاشی خیر کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں۔ معاشی پالیسی سازی وژن اور لائحہ عمل کے تحت طے پاتی ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ وزیراعظم کاشت کاروں اور صنعت کاروں کو براہ راست سبسڈی دینے کا اعلان اسی دن کرتے ہیں جب ان کی کابینہ بجلی میں ایک روپے انتالیس پیسے فی یونٹ بڑھانے کا اعلان کرتی ہے۔ اسی دن گھی، کوکنگ آئل، شو پالش، سرف، صابن، شیمپو، مصالحے، شربت، اچار اور درجنوں دوسری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔
یہ کیسا نظام اور ریاست ہے جو فیصلہ سازی کے انداز کو کم ترین معیار پر چلانے سے بھی قاصر ہے؟ یہ کون سے سیاست دان ہیں جو اپنے حلقوں میں پریشان عوام کے ابلتے جذبات کو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یہ کیسی قیادت ہے جو مشکل زندگیوں کو جہنم میں تبدیل کرکے ان کو حوصلے اور استقلال کے لیکچر دیتی ہے؟ کیسے سیاسی انقلاب کے نام پر بربادی اور عوام کی معیشت کو ریزہ ریزہ کرکے ان کو اول فول اور بے پر کے فلسفے کی گولیاں دی گئیں تاکہ وہ اپنا درد بھول جائیں۔ یہ دنیا کا واحد انقلاب ہے جس نے خلقت کو سولی پر لٹکا کر خود کو کامیاب قرار دیا ہے۔