عوام گالیاں نہ دیں تو کیا کریں

285

’’ڈوب مرو عمران خان‘‘ پٹرولیم مصنوعات میں ہفتہ 16اکتوبر کی صبح ہوشربا اضافے کے بعد یہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تھا۔ ان گنت مشکلات اور مسائل کے شکار عوام کے زخموں پر کوئی مرہم اور پھایا رکھنے کے بجائے حکومت ہر روز باہتمام درد کے عذاب ان کے جسموں میں اتار رہی ہے۔ عوام سے عمران خان کا رشتہ اور تعلق ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ سب کا آسان ہدف ہیں۔ حکمران کا عوام سے تعلق مضبوط ہو تو انگریز جیسی سپرپاور جو پورے ہندوستان میں پنجے گاڑ چکی تھی اسے بہادرشاہ ظفر پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ بہادرشاہ اور پھول والوں کی سیر میں مرزا فرحت اللہ بیگ لکھتے ہیں:
سرسبز و شاداب چمن اگرچہ حوادث زمانہ کے ہاتھوں پامال ہو چکا تھا اور فلاکت کی بجلیوں اور باد مخالف کے جھونکوں سے سلطنت مغلیہ کی شوکت و اقتدار کے بڑے بڑے ٹہنے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے پھر بھی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس برائے نام بادشاہ کو تخت سے اُتار کر دلی کو اپنی سلطنت میں شریک کر لے۔ مرہٹوں کا زور ہوا، پٹھانوں کا زور ہوا، جاٹوں کا زور ہوا، انگریزوں کا زور ہوا مگر دلی کا بادشاہ دلی کا بادشاہ ہی رہا اور جب تک دلی بالکل تباہ نہ ہوئی، اس وقت تک کوئی نہ کوئی تخت پر بیٹھنے والا نکلتا ہی رہا۔ دلی کے ریذیڈنٹ نے بہت کچھ چاہا کہ بادشاہ کے اعزاز و احترام میں کمی کر دے، گورنر جنرل نے بڑی کوشش کی کہ شاہی خاندان کو قطب میں منتقل کر کے قلعے پر قبضہ کر لے، کورٹ آف ڈائریکٹرز نے بہت زور مارا کہ دلی کی باشاہت کا خاتمہ کر دیا جائے مگر بورڈ والے اس پر کسی طرح تیار نہ ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ دلی کا بادشاہ کیا ہے اور اس کے اثرات کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے مباحثے ہوئے، نوجوانوں نے بہت کچھ جوش و خروش دکھایا، مگر انگلستان کے جہاندیدہ بڈھوں کے سامنے کچھ نہ چلی۔ آخر بورڈ میں بڈھے جیتے اور جوان ہارے۔ دلی کے بادشاہ کا اقتدار ضرور کم ہو گیا مگر جو عقیدت رعایا کو بادشاہ سے تھی، اس میں ذرہ برابر فرق نہ آیا اور جو محبت بادشاہ کو رعایا سے تھی وہ جیسی کی ویسی رہی۔ رعایا کی وہ کون سی خوشی تھی جس میں بادشاہ حصہ نہ لیتے ہوں اور بادشاہ کا وہ کون سا رنج تھا جس میں رعایا شریک نہ ہوتی ہو۔ بات یہ تھی کہ دونوں جانتے اور سمجھتے تھے کہ جو ہم ہیں وہ یہ ہیں اور جو یہ ہیں وہ ہم ہیں‘‘۔
آج وزیراعظم عمران خان طوفان میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ ہارتے جارہے ہیں لیکن عوام کی طرف سے کہیں ان کے لیے ہمدردی اور کلمہ خیر نہیں سوائے غلیظ گالیوں کے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے ہر دن اس ملک کے عوام پر بے دردی سے مہنگائی اور ظلم مسلط کیا ہے۔ پورا ملک ان کا زخم خوردہ ہے۔ پاکستان کے حکمران وہ پتھر ہیںجو پگھلتے ہیں اور نہ موم ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے جو ریکارڈ وزیراعظم عمران خان نے قائم کیے ہیں ان کی مثل تلاش کرنا مشکل ہے۔ اپنی حکومت کے تسلسل اور بقا کے لیے وہ ہر کام کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی عوام دشمن ہو۔ اپنی توہم پرستی اور جادو ٹونے پر یقین کی وجہ سے وہ جنازوں میں شرکت کو اپنے اقتدار کی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں ناقابل برداشت حدتک وہ کسی اخلاقیات رحم اور ہمدردی کے متحمل نہیں ہوتے دکھوں میں شرکت کرنا تو کجا۔ اسی برس جنوری میں کوئٹہ کی غضبناک سردی میں ہزارہ قبیلے کے سیکڑوں مرد وخواتین کھلے آسمان تلے چھے دن تک دس میتیں رکھے بیٹھے رہے۔ ان کی شرط یہ تھی کہ وزیراعظم عمران خان آئیں گے تب وہ میتیں دفنا ئیں گے لیکن وزیراعظم کا دل نہ پسیجا۔ دل کیا پسیجتا انہوں نے میتوں کے لواحقین کو بلیک میلر کہا۔ حکومتی دبائو میں آکر لوگوں نے میتوں کو دفنایا تب کہیں جاکر وہ کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ آکر بھی انہوں نے جنازہ گاہ تک جانا گوارا نہیں۔ منتخب ہزارہ متاثرین کو سردار بہادرخان ویمنز یونیورسٹی لایا گیا جہاں وزیراعظم نے ان سے تعزیت کے دو بول کہے۔
جب سے عمران خان حکومت میں آئے ہیں لگتا ہی نہیں کہ وہ اس زمین سے جڑت اور عوام سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی ایک واقعہ، درد کے قبیلے سے کوئی ایک بلاوا جس طرف وزیراعظم دردمندی سے دوڑتے ہوئے گئے ہوں، بصد مشکل ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ویسے تو پاکستان میں سارے ہی حکمران دھوکے باز آئے ہیں لیکن دھوکے باز کا جیسا تصور عمران خان کا عوام کے ذہنوں میں راسخ ہوا ہے شاید ہی کسی حکمران کا ہوا ہو۔ اقتدار میں آکر وہ ہر وہ کام کررہے ہیں جسے کل تک گالیاں دیتے تھے۔ کل تک جن کاموں پر وہ نواز شریف کو چور کہتے تھے آج پوری بے شرمی اور ڈھٹائی سے وہی سب کام زیادہ شدت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجیکل میڈیا کے دور میں یہ کام حکمرانوں کے لیے بہت مشکل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے قول سے مکریں، عوام کو دھوکا دیں اور لوگوں کو خبرنہ ہو۔ جب سے حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کہاں کہاں عمران خان کا یہ جملہ جوتے کی طرح ان کے منہ پر نہیں مارا جارہا ہے کہ ’’جب بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ جائو کہ وزیراعظم چور ہے‘‘۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان کی تاریخ میں اس حوالے سے شرمناک ہے کہ شاید ہی کبھی قیمتوں میں یکمشت اتنا اضافہ کیا گیا ہو اور پٹرول کی قیمتیں اس سطح تک پہنچی ہوں۔ حکومت کی جانب سے اضافے کا جواز یہ پیش کیا جارہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ کتنا ہوا ہے۔ یہ اضافہ ایک ڈالر فی بیرل ہوا ہے جس کے بعد قیمتیں تقریباً 85ڈالر فی بیرل پہنچ گئیں جس پر حکومت عوام سے تقریباً 138روپے فی لٹر وصول کررہی ہے جب کہ پیپلزپارٹی کے سابقہ دور میں عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 147ڈالر فی بیرل تک چلی گئی تھی لیکن حکومت عوام سے 106روپے فی لیٹر وصول کرتی تھی۔ گزشتہ چار ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آٹھ مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے۔ ڈالر 172پر جاچکا ہے۔ اوگرا کی جانب سے 5.90 کی سمری ارسال کی گئی تھی وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 10.49 پیسے اضافہ کیا۔ اس اضافے پر مختلف جواز پیش کیے جارہے ہیں لیکن آئی ایم ایف کا نام لیتے حکومت کو شرم آرہی ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وزیراعظم کے دور میں کیا جارہا ہے جو ماضی میں بہ تکرار کہا کرتا تھا جب بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہر چیز کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں اور غریب آدمی نیچے آتا ہے۔ جو ٹیکسوں میں اضافے پر کہا کرتا تھا ’’جب عوام پر ٹیکس لگاتے ہیں تو غربت بڑھ جاتی ہے۔ عوام پر جتنا ٹیکس لگتا ہے قوم اتنی ہی غریب ہوتی ہے‘‘۔
وزیراعظم عمران خان نے تو یہ جملے ماضی میں اپنی تقریر میں زور اور بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے کہے تھے لیکن انہیں ایک فی صد بھی اندازہ نہیں کہ مہنگائی سے کمزور طبقات پر کیا گزرتی ہے۔ غریبوں کی مشکلات کا تو کسی حدتک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ نظر آتی ہیں لیکن تنخواہ دار طبقے پر کیا گزرتی ہے جو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے ہمارے معاشرے کا سب سے انتہائی پسا اور دبا ہوا طبقہ ہے اور شکستہ دلی، مایوسی اور نا امیدی کا بری طرح شکار ہے۔ جنہیں متعدد محکموں میں چار چار چھے چھے مہینے سے تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کے ملازمین کی آئے دن بجلی، پٹرول، گیس اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافے سے وہ ابتر صورتحال ہے کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مہینے یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیسے کریں اور بقیہ پیسوں کی قوت خرید کو آسمان چھوتی اشیاء صرف کی قیمتوں سے کیسے ایڈ جسٹ کریں۔ خدا کی پناہ ایک ہی دن میں پٹرول کی قیمتوں میں ساڑھے بارہ روپے تک، بجلی کی قیمتوں میں تقریباً دو روپے فی یونٹ تک اور گھی کی قیمت میں 109روپے کلو اور تقریباً ہر چیز پر دس پندرہ بیس روپے اضافہ کردیا گیا۔ ایسے میں کمزور طبقات جلنے کڑھنے، آہیں بھرنے اور عمران خان کو اور اس کے لانے والوں کو گالیاں نہ دیں تو کیا کریں۔ تف ہے ایسی کارکردگی پر۔