آئی ایم ایف کی شرائط کا ناقابل برداشت بوجھ

351

ایک ہفتہ ہونے کو آیا شوکت ترین صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے امریکا گئے تھے کہ آئی ایم ایف کے معاہدہ جو جولائی 2021ء میں معطل ہوگیا تھا اس کو دوبارہ بحال کرایا جاسکے۔ لیکن ابھی تک قوم کو تسلیاں دی جارہی ہیں اور شرائط پوری کرنے کی شکل میں ایک غریب اور کمزور قوم پر آفتوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اس پر لوگ خودکشیاں کرنے لگے ہیں۔ امریکا پہنچنے کے اگلے ہی دن اسٹیٹ بینک کے گورنر کے ساتھ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کے ذریعے خبر سنائی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ توانائی سیکٹر میں معاہدہ ہوگیا ہے، مزید یہ کہ ہم 40 فی صد آبادی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے۔ اس کے علاوہ آٹا، چینی اور دالوں پر بھی سبسڈی دی جائے گی، لیکن اگلے ہی دن آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں ساڑھے 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے 12 روپے اضافہ کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے اوسط نرخوں میں 1.39 روپے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا اور اس طرح بجلی کا ایک یونٹ جو 2018ء میں 11.72 روپے کا تھا اب 16.44 روپے کا ہوگیا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے ریٹ بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور اس سے ہر چیز خصوصاً سبزی، گوشت، پولٹری، دودھ اور دہی اور کھانے پینے کی تمام اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں۔
اس سے اگلے دن پاکستانیوں کو یہ خبر ملی کہ آئی ای ایف نے پاکستانی ٹیم کے سامنے اس سے بھی سخت شرائط رکھی ہیں جن میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ، جنرل سیلز ٹیکس میں جہاں جہاں سبسڈی دی جارہی ہے اس کا خاتمہ، انکم ٹیکس کے سلیب میں تبدیلی اور ریگولٹری ڈیوٹی میں اضافہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ باتیں سامنے آرہی ہیں۔ مثلاً پاکستان میں سال رواں 2021-22 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکائونٹس خسارہ ساڑھے تین ارب ڈالر ہوگیا ہے جو جی ڈی پی (GDP) کا 4 فی صد ہے، اسی طرح تجارتی خسارہ 10 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف یہ مطالبہ بھی کرسکتا ہے کہ درآمدات میں کمی کی جائے تا کہ تجارتی خسارے پر کنٹرول کیا جاسکے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا مجموعی اثر ملکی معیشت پر بہت برا ہوگا۔
ایک طرف علامی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 85 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی ہیں جس سے درآمدی بل بڑھ رہا ہے، روپے کی قدر گر رہی ہے اور ملک میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ بڑھنے سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آرہی ہے۔ اسی کے ساتھ کیمیکل، اسٹیل، LNG اور گندم، پام آئل اور دوسری اشیا کی قیمتیں بیرون ممالک میں اوپر چلی گئی ہیں۔ برآمدات کم ہونے اور درآمدات زیادہ ہونے سے ملک میں ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے، اس باعث ڈالر 174 روپے کا ہوگیا ہے، اس سے بیرونی قرضے کی مالیت بڑھ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ڈالر کی قیمت مستحکم کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے تھے وہ غیر موثر رہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک اور اس کے گورنر رضا باقر کو روپے کی قدر کے استحکام سے بظاہر کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے روپے کی قدر گرنے کی ایسی نامعقول تاویل کی کہ اس طرح اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، آج تک ماہرین معیشت نے ایسی بھونڈی دلیل نہیں دی۔
اسی طرح ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا یہ ہے کہ شکر کریں بجلی کے نرخ میں 1.40 روپے اضافہ ہوا ورنہ تو یہ اضافہ 3.50 روپے ہونا چاہیے یا یہ کہ پاکستان میں قیمتیں اس طرح نہیں بڑھ رہیں جس طرح دنیا میں بڑھ رہی ہیں۔ اُن سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کس ملک میں افراط زر 8 یا 9 فی صد ہے۔ اصل میں ارباب اقتدار کی یہ ڈھٹائی ہے یا عوامی مسائل سے عدم دلچسپی ہے یا انہیں عوام کی تکلیف اور مسائل کا اندازہ ہی نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا۔ اس لیے کہ ان سب کو بجلی، گیس، پٹرول اور ٹیلی فون وغیرہ سرکاری خزانے سے مہیا کیے جاتے ہیں اگر ان سب نے کبھی اپنی جیب سے بجلی کا بل دیا ہو یا پٹرول لیا ہو تو مسائل کی شدت کا پتا چلے گا ورنہ یونہی جھوٹی تسلیاں یا تاویلات کرتے رہیں گے۔