متاثرین نسلہ ٹاور، عدلیہ اور جماعت اسلامی

195

نسلہ ٹاور کے متاثرین اپنی جمع پونجی کو بچانے کے لیے تمام دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں اور عدالت سے بھی بار بار درخواست کر رہے ہیں کہ اُن کی بات سنی جائے اور عدالت انصاف کے تقاضے پورا کر کے فیصلہ دے۔ دوسری طرف نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو 27 اکتوبر تک بلڈنگ خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور ایک نوٹس دیا ہے کہ کمشنر کراچی کو اعلیٰ عدلیہ کی ہدایت پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع کروانا ہے لہٰذا بلڈنگ خالی نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل نسلہ ٹاور سے متعلق گزشتہ سماعت میں عدالت نے نظر ثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے بلڈنگ کو ایک ماہ میں خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عمارت کا کچھ حصہ غیر قانونی زمین پر تعمیر کیا گیا، الاٹیز یا مالکان کو حقیقی مالکان کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ عدالتی حکم میں الاٹیز کے مفادات کا تحفظ بھی کیا گیا ہے، متعدد سوالات پر بھی 780 گز سے زائد کی لیز دستاویزات پیش نہیں کی گئیں اور اضافی لیز کا بھی قانونی جواز نہیں پیش کیا جاسکا۔ اس سے قبل عدالت میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ ’’یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 1957ء میں مرکزی سڑک کی چوڑائی 280 فٹ تھی جس میں رد و بدل کیا گیا اور اس کے نتیجے میں اس کی چوڑائی 240 فٹ رہ گئی تھی اور دسمبر 1957میں چیف کمشنر کے ایک مراسلے کے ذریعے 40 فٹ سے زیادہ کی جگہ سندھی مسلم کو آپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی (ایس ایم سی ایچ ایس) کو الاٹ کردی گئی تھی اور موجودہ مالک نے بالآخر اسے 2015 میں کنویژن ڈیڈ کے ذریعے حاصل کیا اور ابتدائی طور پر یہ جگہ رہائشی پلاٹ کے لیے تھی لیکن 2004 میں اُس وقت کی شہری حکومت نے ایک قرارداد کے تحت شارع فیصل پر تمام رہائشی پلاٹوں کو کمرشل میں تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی‘ اس طرح 2007 میں یہ پلاٹ رہائشی سے کمرشل میں تبدیل کردیا گیا۔ عدالت کے سامنے جو حقائق ہیں اُس سے انکار نہیں‘ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ نسلہ ٹاور کے تمام کاغذات حکومتی محکمے سے منظور شدہ ہیں، ان تمام اتھارٹیز کو طلب کریں جن کی سرپرستی اور اجازت سے یہ ٹاور بنا اور دیگر غیر قانونی تعمیرات ہوئیں۔ اس میں ایک عام آدمی کا کیا قصور ہے اور یہی بات متاثرین بھی کہہ رہے اور وہ سراپا احتجاج ہیں، پریس کانفرنسیں کررہے ہیں، احتجاج کررہے ہیں، جس میں معمر اور معذور مکینوں کے علاوہ خواتین اور معصوم بچوں کی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے۔ اس احتجاج کے دوران ہی ایک متاثرہ بزرگ خاتون دوران گفتگو ہارٹ اٹیک کے باعث زمین پر گر گئیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس وقت المیہ یہ ہے کہ کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں عملی طور پر خاموش ہیں، پیپلز پارٹی خاموش ہے وہ عدالت عظمیٰ کے پاس نہیں جاتی، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا کوئی وزیر‘ مشیر اور کراچی کے ایم این اے اور ایم پی اے نسلہ ٹاور کے مسئلے پر بات نہیں کررہے ہیں، جب کہ جماعت اسلامی ہمیشہ کی طرح اصولوں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان متاثرین کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے، اور عملی طور پر اس نے نسلہ ٹاور کے سامنے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اُن کا دکھ اور درد سنا بھی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ متاثرین کو متبادل فراہم کیے بغیر کسی صورت نسلہ ٹاور کو گرانے نہیں دیا جائے گا۔ مکینوں نے زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر گھر بنائے ہیں۔ چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ نسلہ ٹاورگرا نے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور جس قانون کے تحت بنی گالہ کو ریگولائز کیا گیا ہے اُسی قانون کے تحت نسلہ ٹاور کو بھی ریگولائز کیا جائے۔ نسلہ ٹاور کے متاثرین کے پاس تمام حکومتی اداروں کی دستاویزات موجود ہیں پھر کس بنیاد پر نسلہ ٹاور کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس وقت پورے شہر میں کئی غیر قانونی عمارتیں موجود ہیں، سوسائٹیز میں پورشن بن رہے، عدالتی احکامات کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے بلندوبالا عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، کوئٹہ ٹائون کے مکین مستقل ناجائز پورشن کے خلاف احتجا ج کررہے ہیں لیکن اتنی ’’مستعدی‘‘ کہیں اور نظر نہیں آتی جتنی نسلہ ٹاور کے معاملے میں ہے۔ یہی بات امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بھی کہی ہے کہ نسلہ ٹاور کے متاثرین کے پاس تمام حکومتی اداروں کی دستاویزات موجود ہیں پھر کس بنیاد پر نسلہ ٹاور کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟ انہوں نے بالکل درست کہا کہ شہر میں متعدد مقامات پر ناجائز عمارتیں قائم ہیں‘ اُس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ سندھ سیکرٹریٹ میں ناجائز عمارتوں کو جائز بنانے کا عمل جاری ہے اسے روکا جائے۔ چیف جسٹس صاحب نے محمود آباد میں گرین بیلٹ پر قائم کے الیکٹرک کے گرڈ اسٹیشن کی منتقلی کا فیصلہ کیا تھا آج تک اس پر عمل کیوں نہیں ہوسکا۔ عسکری فور سے متصل سنیما اور شادی ہال کس قانون کے تحت قائم ہیں؟ حیات ایجنسی کو کس قانون کے تحت ریگولائز کیا گیا تھا؟ شاہراہ فیصل پر فالکن کے نام سے شاپنگ سینٹر قائم ہے اس کے خلاف فیصلہ نہیں ہوتا۔ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ میں لاکھوں مقدمات موجود ہیں جن کے فیصلے نہیں ہو رہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’’میں بہ حیثیت امیر جماعت اسلامی کراچی نسلہ ٹاور کے مکینوں کے ساتھ ہوں، جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے اور ان سے بھرپور اظہار یکجہتی کرتی ہے اور جماعت اسلامی آئندہ سماعت میں فریق کی حیثیت سے عدالت عظمیٰ میں حاضر ہوگی۔
نسلہ ٹاور کی عمارت گرانے کا فیصلہ انسانی المیوں کو جنم دے سکتا ہے کیوں کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں موجود رہیں گے، مسمار کرنے والوں کو پہلے ہمارے اوپر بلڈوزر چلانا ہوگا۔ رہائش عوام کا بنیادی حق ہے، بدقسمتی سے ہماری ریاست پہلے یہ حق اور سہولت دینے سے قاصر ہے۔ یہ ریاست لوگوں کو جینے کا حق نہیں دے رہی‘ روزانہ المیے جنم لے رہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پہلے ہی لوگوں کا برا حال ہے‘ اس وقت ملک حالت ِ جنگ جیسی صورت حال سے دوچار ہے ایسے میں یہ کہہ کر کہ ’’سب کچھ غیر قانونی ہے‘‘ اور گرا دیا جائے تو یہ انصاف کا تقاضا نہیں۔ اگر اس عمارت کو گرانا قانون کا تقاضا ہے تو یہ بھی آئین و قانون کا تقاضا ہے کہ نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو ان کی جمع پونجی واپس دلائی جائے کیوں کہ اگر ان کے ساتھ کسی نے دھوکا کیا ہے تو وہ ریاست اور اس کے اداروں نے کیا ہے، اہم بات اور سوال یہ ہے کہ یہ یا اس جیسا کوئی بھی پروجیکٹ کیسے تعمیر ہوگیا؟ جب کہ اس میں بجلی، گیس، پانی کے بل بھی ادا کیے جاتے ہیں اور پراپرٹی ٹیکس بھی لیا جاتا رہا ہے۔ اصل میں ان کو کٹہرے میں لانے اور سزا دینے کی ضرورت ہے جو اب تک ممکن نہیں ہوسکا اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں آج بھی کراچی میں بڑے پیمانے پر ناجائز تعمیرات ہو رہی ہیں جو مستقبل کی ’’نسلہ ٹاور‘‘ ہوں گی۔ جیسا کہ نسلہ ٹاور کے رہائشی چیف جسٹس سے درخواست کر رہے ہیں کہ نسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور جس قانون کے تحت بنی گالہ کو ریگولائز کیا گیا ہے اُسی قانون کے تحت نسلہ ٹاور کو بھی ریگولائز کیا جائے یا کم از کم متاثرین کو متبادل فراہم کیے بغیر نہ گرایا جائے۔ عدلیہ پاکستان کی ریاست کا با وقار اور انتہائی اہم ادارہ ہے جس کا احترام کرتے ہیں اسی لیے اس سے امید رکھتے ہیںکہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا راستہ نکالے گی جس سے عام متاثرین کا نقصان نہ ہو اور ان کی چھت اور جمع پونجی محفوظ رہے۔