شام: امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کا اہم کمانڈر ہلاک

133
فائل فوٹو

دمشق: شام میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا اہم سینئر رہنما امریکی ڈرون حملے میں مار ا گیا، امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والا القاعدہ کا رہنما/ کمانڈر تھا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما عبدالحامد المطر کو شمالی شام کے علاقے سلوک میں نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ علاقہ ترکی کے زیر کنٹرول ہے۔

امریکی میجر جان ریگسپی نے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ‘اس اہم کمانڈر کی موت سے القاعدہ تنظیم کی مزید عالمی حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کی صلاحیت کو دھچکا پہنچے گا، یہ حملے امریکی شہریوں اور ہمارے شراکت داروں کے لیے سنگین خطرہ ہیں’۔

ترجمان کے مطابق مذکورہ ڈرون حملے میں شہریوں کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور القاعدہ تنظیم کی جانب سے شام کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اوراس کا مقصد یہ ہے کہ تنظیم اپنی از سر نو تشکیل اور بیرونی شاخوں کے ساتھ رابطہ کاری انجام دے سکے۔

ترجمان کے مطابق امریکی فوج نے ستمبر کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ شام کے شمال مغرب میں ادلب کے علاقے میں ایک فضائی حملے میں القاعدہ تنظیم کا ایک اہم کمانڈر سلیم ابو احمد مارا گیاتھا۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل داعش نے جنوبی شام میں امریکا کے زیر استعمال ہونے والے بیس کو نشانہ بنایا تھا۔

یاد رہے  شام میں جاری جنگ پیچیدہ صورتحال اختیار کر گئی ہے جس میں غیر ملکی فوجیں، ملیشیا اور دیگر مسلح گروہ شامل ہیں جو القاعدہ، داعش اور دیگر مسلح گروپوں سے منسلک ہیں۔

ادلب اور پڑوسی حلب کے بڑے حصے شامی مسلح اپوزیشن کے ہاتھوں میں ہیں، جن پر مسلح گروہوں کا غلبہ ہے۔

واضح رہے  شام میں 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن سے شروع ہونے والی جنگ سے اب تک تقریبا 5لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔