گولارچی رائس ملز مالکان کی ملی بھگت،دھان کی قیمت خرید کم

97

گولارچی(نمائندہ جسارت )زیریں سندھ میں دھان کی فصل کی کٹائی کا عمل شروع،رائس ملز مالکان نے ملی بھگت کے ذریعے دھان کی قیمت خرید کم اور فی بوری چار سے پانچ کلو کٹوتی کرکے کاشتکاروں کا معاشی قتل کا سلسلہ شروع کردیا،مختلف آبادگار اور سیاسی جماعتوں کا احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع۔تفصیلات کے مطابق زیریں سندھ میں سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی فصل دھان کی کٹائی کا عمل شروع ہوتے ہی مقامی رائس ملز مالکان نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔اس سلسلے میں نئی فصل جیسے ہی ملز میں پہنچتی ہے مل مالکان کی جانب سے خود ساختہ قائم یونیں کی مجبوری دکھاکر فی بوری کم از کم چار سے پانچ کلو کی ناجائز کٹوتی کی جارہی ہے۔جبکہ دھان کی قیمت خرید بھی کم کرکے چودہ سو روپے کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں کاشتکاروں کوکروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔دوسری جانب مل مالکان کے مظالم کے خلاف مختلف آبادگار تنظیموں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ شروع کردیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں جسقم گولارچی کی جانب سے ناز نوتکانی،محفوظ نوتکانی اور لعل چانڈیو و دیگر کی قیادت میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے گولارچی پریس کلب کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور مل مالکان کی جانب سے جاری ناجائز کٹوتی بند کرنے اور دھان کی قیمت خرید 2000 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثنا ایس یو پی کے مرکزی رہنما امیر حسن آزاد نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی قیمت میں بے پناہ کمی، ناجائز کٹوتی اور کاشتکاروں کے معاشی قتل کے خلاف 25 اکتوبر کو ڈی سی چوک میں ضلع بھر کے کاشتکار اور دیگر جماعتوں کیت عاون سے بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا دیا جائیگا۔