ضلع میں ذاتی تنازعات پر ناحق خون بہایا جارہا ہے ،ابراہیم جتوئی

111

شکارپور (نمائندہ جسارت) نیشنل پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سابق ایم این اے ڈاکٹر محمد ابراہیم جتوئی نے اپنے پریس بیان میں کہا ہے کہ شکارپور ، کندھ کوٹ ایٹ کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ، قنبر شہداد کوٹ سمیت سندھ کے دوسرے ضلع میں بھی ذاتی تنازعات میں روزانہ کی بنیاد پر عورتوں، بچوں اور مردوں کا خون بہہ رہا ہے مگر سندھ پولیس صرف ایف آئی آرکاٹنے تک محدود رہ گئی ہے مذکورہ ضلع میں عورتیں اپنے شوہر، اپنا بیٹا، اپنا بھائی اور اپنی زندگی بھی گنوا بیٹھتی ہیں اور کئی معصوم بچے اس ذاتی تنازعات میں تعلیم چھوڑ کر اپنی زندگی بچانے کیلیے اسلحہ اٹھائے پھرتے ہیں ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کیلیے سندھ پولیس اور دوسرے ادارے ناکام ہو گئے ہیں، ذاتی تنازعات کو پولیس نارمل سمجھ کر رشوت لے کر قتل کی ایف آئی آر کاٹنے تک محدود رہ گئی ہے۔ ذاتی تنازعات کے قتل کے ایف آئی آر میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ضلع میں بنائی گئی ایپکس کمیٹیاں ذاتی تنازعات پر کبھی میٹنگ کرنے کی زحمت نہیں کرتی ہیں، ہر ڈسٹرکٹ میں ہر ماہ 10 سے 30 لوگ قتل ہوتے ہیں اور کئی زخمی ہوتے ہیں مگر ضلع کی ایپکس کمیٹی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے، سنا ہے کہ لاڑکانہ ڈویژن میں 40 ہزار سے زیادہ مختلف کیسوں میں مفرور لوگ کرائم کر رہے ہیں جن کی وجہ سے عام عوام گھروں تک محصورہو گئے ہیں۔ ایس ایس پی شکارپور نے مزید کہا کہ 2 سے ڈھائی لاکھ لوگوں کے پاس غیر قانونی جدید اسلحہ ہے جن کو پکڑنے میں ٹائم لگے گا پتا نہیں پکڑنے تک کتنی انسانی جائیں ضائع ہوجائیں گی۔ انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ذاتی تنازعات پر پولیس ایپکس کمیٹیزاور دوسرے اداروں کو ڈائریکشن کریں تاکہ ان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ڈویژن لاڑکانہ سمیت سندھ بھر میں امن امان کے لیے اپنا قانونی کردار ادا کرکے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔