میرپورخاص،پبلک ہیلتھ کی ناقص کارکردگی ،شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا

134

میرپورخاص(نمائندہ جسارت) پبلک ہیلتھ ڈیپارمنٹ کی ناقص کارکردگی کے سبب میرپورخاص کے عوام میں مختلف امراض پھیلنے لگے ، ڈیپارمنٹ کی جانب سے چاندنی چوک سے اے جے کالج تک ڈالی گئی نئی پائپ لائن جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،شہریوں کو سپلائی کیے جانے والے تالاب میں زندہ اور مردہ کتے پائے گئے ایس ڈی او صفدر شاہ کو تین روز کے لیے تبدیل کرنے کے بعد دوبارہ بحال کر دیا نااہل ایس ڈی او کی وجہ سے شہری گندا مضر صحت پانی پینے پر مجبور۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص محکمہ پبلک ہیلتھ میں رشوت کا بازار گرم ہے کوئی کام بغیر پیسے کے نہیں ہوتا ہے ہر کام کے ریٹ فکس ہیں حال ہی میں شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے نئی لائنیں بچائی گئی تھیں جو کہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے اس لائن میں گڑوں کا گندا پانی شامل ہوجاتا اور یہ پانی شہریوں کے گھروں میں جاتا ہے جس سے پینے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں مساجد میں نمازی اس گندے پانی سے بحالت مجبوری وضو کرتے ہیںجبکہ شہری غسل کرتے ہیں اس کے علاوہ جگہ جگہ سے پائپ لائن ٹوٹ جانے کی وجہ سے نیا بنایا گیا اسفالٹ روڈ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا ہے سیٹلائٹ ٹائون چاندنی چوک اور دیگر علاقوں میں گندے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے پورا شہر کسی گٹر کا منظر پیش کرتا ہے سپرنٹنڈنٹ انجینئر ایگزیکٹو انجینئر اور ایس ڈی او صفدر شاہ محکمہ پبلک ہیلتھ کسی شکایت پر کان نہیں دھرتے ہیں اور نہ ہی کسی شہری کے فون کو اٹینڈ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ان افسران کی نااہلی اس قدر بڑ چکی ہے کہ پینے کے پانی کے تالاب میں زندہ اور مردہ کتے پائے گئے ہیں جس کی شکایت ان سے کئی بار کی گئی ہے مگر ان کے کان پر جوُں تک نہیں رینگتی ہے واضع رہے کہ ایس ڈی او پبلک ہیلتھ صفدر شاہ کو تین روز کے لیے تبدیل کردیا گیا تھا او ر ان کی جگہ کسی اور کو اس سیٹ پر آنا تھا مگر اس نااہل ایس ڈی او کو دوبارہ بحال کر کے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کرپٹ اور نااہل افسر کو میرپورخاص سے فوری طور پر تبدیل کر کے کسی ایماندار افسر کو تعینات کیا جائے۔