حرمین شریفین : طویل عرصے بعد سماجی فاصلے کے بغیر نماز جمعہ ادا

205
مکہ مکرمہ؍ مدینہ منورہ: سعودی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے تناظر میں عائد سماجی فاصلے کی پابندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نمازی مل کر بیٹھے ہوئے ہیں

مکہ مکرمہ؍ مدینہ منورہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ڈیڑھ سال بعد حرمین شریفین میں کورونا پابندیوں کے خاتمے کے بعد نمازیوں کی بڑی تعداد نے نماز کے اجتماع میں شرکت کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلے جمعہ میں ہی خانہ کعبہ نمازیوں سے بھر گیا اور اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ کورونا وبا کے باعث مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں انتہائی کم تعداد میں ہی نمازیوں کو آنے کی اجازت تھی اور باجماعت نماز میں بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ضروری تھا۔ یہ پابندیاں ڈیڑھ سال جاری رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے ختم کردی گئیں۔ سعودی حکام کی جانب سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں کورونا پابندیوں کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے سماجی فاصلے کے اسٹیکر ہٹا دیے گئے ہیںاور بیت اللہ و مقام ابراہیم کے گرد حائل رکاوٹیں ختم کردی گئی تھیں۔ 17 اکتوبر کو پہلی بار بغیر سماجی فاصلے اور کورونا کی دیگر پابندیوں کے بغیر نماز ادا کی گئی تھی اور حرم شریف ’’سیدھے کھڑے ہوجائیں، صفیں درست کرلیں اور کندھے سے کندھا ملالیں ‘‘کی صداؤں سے گونج اْٹھا تھا۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلے اجتماع جمعہ میں بھی مسجد الحرام اور مسجد نبوی نمازیوں سے بھرگئی۔ ویکسین شدہ شہری جوق در جوق مطاف میں داخل ہوئے اور اپنے رب کے حضور نماز جمعہ ادا کی۔اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ تاریخی موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی اور نمازیوں نے حرم شریف میں عبادت اور دیگر سرگرمیوںکی بحالی پر ایک دوسرے کو مبارک باد بھی پیش کی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کی صورت حال میں بہتری آنے کے باعث حکومت کی جانب سے بہت سے پابندیوں میں نرمی کردی گئی۔ اس سے قبل ریاض حکومت نے کئی ممالک پر عائد سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔