ٹی 20 ورلڈ کپ ایک جائزہ ۔۔۔ پاکستان متوازن ٹیم ہے

195

۔16 ٹیموں کے درمیان مقابلے ہورہے ہیں، پہلا فیز عمان میں کھیلا جارہا ہے ۔گروپ اے میں میزبان عمان ، بنگلا دیش ، اسکاٹ لینڈ، پاپوا نیو جینیواگروپ بی میں سری لنکا ، نیدر لینڈ ، آئرلینڈ اور نیمبیا کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ہر گروپ سے 6 ٹیمیں سپر 12 کیلئے کوائلیفائی کریں گی ۔ جہاں پہلے ہی12 ٹیمیں موجود ہیں۔گروپ اے میں پاکستان ، بھارت ، نیوزی لینڈ اور افغانستان ہیں۔ان میں 2 کوالیفائر ْٹیموں کا اضافہ ہوجائیگا ۔گروپ بی میں آسٹریلیا ، انگلینڈ ، جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ2 کوالیفائر ٹیمیں ہونگی ۔ یہ 4 کے دونوں گروپ سے 2 ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کولیفائی کریں گی ۔ کاغذپر انگلینڈ ، ویسٹ انڈیز ، پاکستان ، بھارت اور آسٹریلیا کی ٹیمیں بظاہر بہت مضبوط دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر ہم نیوزی لینڈ اور افغانستان کی ٹیموں کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔نیوزی لینڈ کی ٹیم کین ولیم سن کی قیادت میں گزشتہ دو ، تین سال سے بہترین کارکردگی دیتی آرہی ہے جہاں انکی قیادت میں نیوزی لینڈ نے ٹیسٹ چمپئن شپ جیتی اور 2019 کا ورلڈکپ فائنل کھیلا ۔افغانستان کی ٹیم بھی ہر گزرتے دن مسلسل بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس ٹیم سے کوئی بھی امید کی جاسکتی ہے اس ٹیم کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بہت بڑا اپ سیٹ کرسکتی ہے ۔ اگر یہ ٹیم آخری میں آتی ہے توواقع المعروف کیلئے یہ حیران کن بات نہیں ہوگی ۔ویسٹ انڈیز کی ٹیم بظاہر تو بہت مضبوط ہے مگر ٹیم کا انحصار پرانے و کٹریز پلیئرز پر ہے ۔ اب یہ وکٹرینین پلیئرز کی طرح کرکردگی دکھاتے ہیں سارا دارو مدار اسی پر ہے ۔ کرس گیل 43 سال کے ہوگئے ہیں مگر اگر انکا دن ہوگا وہ آج بھی اکیلے پورا میچ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کو سنیل نارائن کی کمی بہت محسوس ہوگی ۔انگلینڈ کی بیٹنگ بہت مضبوط ہے ۔ جوز بٹلر ، جیسن رائے ، جونی بیرسٹو ، مورگن ، سام بلنگز ، لیونگ اسٹون ، بہترین ٹی ٹوئنٹی پلیئرز ہیں ۔ مگر انکی بولنگ امارات کی کنڈیشنز میں کتنی کامیاب رہتی ہے ۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔آسٹریلیا کی ٹیم ہمیشہ سے فیورٹ ٹیموں میں رہی ہے ۔ انکی بولنگ ، بیٹنگ اور فیلڈنگ ہمیشہ بہترین رہتی ہے ۔ بھارت کی ٹیم کی سلیکشن پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ یہ ٹیم صرف بلے بازوںکوہلی ، روہیت ، راہول اور سوریا کمار یادو پر مشتمل ہے ، دو وکٹ کیپر پینٹ اور کشن ہیں۔ 2 آل رائونڈر ہردیک پانڈیا اور جدیجا ہیں مگر کیا ہردیک پانڈیا 4 اوور اپنے کوٹے کے پورے کرسکتے ہیں۔ یہ بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ بھارت کا ریگولر بولرز کے ساتھ ٹورنامنٹ میں جا نے کی وجہ بھارت کے سلیکٹرز ہی بتاسکتے ہیں۔ پاکستان ٹیم اس مرتبہ تمام پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی سب سے بیلنس ٹیم نظر آتی ہے ۔بابر اعظم ، محمد رضوان ، فخر زمان ، حفیظ ، شعیب ملک، حیدر علی یہ سب اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو میچ جتوا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عماد وسیم ، محمد وسیم جونیئر ، شاداب خان وحسن علی لوور آرڈر میں اپنی پاور بیٹنگ سے ٹیم کے اسکور میں اچھا اضافہ کرسکتے ہیں۔ فاسٹ بولنگ میں شاہین آفریدی، حسن علی ، حارث رئوف اور محمد وسیم اسپنرز میں شاداب خان ، عماد وسیم ، محمد نواز ، حفیظ اور شعیب ملک موجود ہیں۔ کاغذپر پاکستان ٹیم بہت متوازن نظر آرہی ہے ۔ بہت کچھ منحصر ہے ۔ بابر اعظم کی کپتانی ، بیٹنگ آرڈر میں صحیح تناسب اور بہتر فیلڈنگ پر منحصر ہے اگر ان پر کنٹرول ہوگا تو پاکستانی ٹیم خان ، عماد وسیم ، محمد نواز ، حفیظ اور شعیب ملک موجود ہیں۔ کاغذپر پاکستان ٹیم بہت متوازن نظر آرہی ہے ۔ بہت کچھ منحصر ہے ۔ بابر اعظم کی کپتانی ، بیٹنگ آرڈر میں صحیح تناسب اور بہتر فیلڈنگ پر منحصر ہے اگر ان پر کنٹرول ہوگا تو پاکستانی ٹیم ورلڈکپ جیتنے کیلئے بہت فیورٹ ہے ۔پہلی مرتبہ پاکستان کے پاس بہت زیادہ چانس ہیں کہ بھارت کو ورلڈ کپ میں ہرائے ۔ ہماری ٹیم فیلڈنگ پر قابو پالے کیچز ڈراپ نہ کرے تو ہم اپنا پہلا میچ بھارت سے جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ ہماری بولنگ ٹورنامنٹ میں سب سے مضبوط ہے ۔ اور اگر سرفراز کو مناسب موقع ملے گا تو وکٹ کیپنگ مضبوط ہوجائے گی اور رضوان بھی آزادانہ کھیل سکیں گے۔