مکڑی کے جالوں میں کب سے قید روشن دان مرے

306

آج مجھے مصطفی زیدی یاد آرہے ہیں، مری میں اسسٹنٹ کمشنر ہوا کرتے تھے، مری ان دنوں صاف ستھرا صحت افزاء مقام تھا، سیاحوں کی بھی عزت تھی اور میزبان بھی بہت مہربان ہوا کرتے تھے، مری میں ان دنوں کتابوں کی ایک ہی دکان تھی اور مصطفی زیدی نے عادت بنائی ہوئی تھی کہ فارغ اوقات میں وہاں جاتے اور دستیاب رسائل کا مطالعہ کرتے تھے، انٹر نیٹ نے آج سب کچھ چھین لیا ہے، ان دنوں مری میں ترجمان القرآن چھپ کر آتا تو کتابوں کی دکان کے باہر ایک بڑا سا بینر آویزاں کردیا جاتا کہ ترجمان القرآن کا تازہ شمارہ آگیا ہے، ان دنوں مری چھوٹا شہر تھا، آج یہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بن چکا ہے، آبادی بھی بڑھ گئی ہے، کاروباری میں وسعت آچکی ہے، تعلیمی ادارے اب ماضی کی نسبت تعداد میں زیادہ ہیں، سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے لیکن کیا وجہ ہے اب کسی بھی ہفت روزہ یا ماہنامہ کے تازہ شمارے کی دستیابی کا بینر نہیں لگ رہا، وقت بدل گیا ہے، یا اخبارات اور جرائد خبروں اور مدلل تجزیوں سے خالی ہوگئے ہیں یا سیاسی کارکن میں اب مطالعہ کی عادت نہیں رہی۔ کچھ تو ہے، یہ سب کچھ بلا سبب نہیں ہے۔
جرائد کے تازہ شمارے کی آمد کی اطلاع کے پوسٹرز اور بینر تب لگا کرتے تھے جب سیاسی کارکن کسی نہ کسی کتاب اور رسالے کا ضرور مطالعہ کرتے تھے اور ان دنوں سیاسی چوپال جب سجتی تو دلیل کے ساتھ بات کی اور سنی جاتی تھی، ترجمان القرآن تو ہر دور میں اثاثہ رہا ہے آج بھی یہ ماہنامہ کسی قیمتی سرمایہ سے کم نہیں ہے مگر نجانے چمن میں دیدہ ور کیوں کم ہوتے چلے جارہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں مطالعہ کی عادت تو ختم ہی ہو گئی ہے، وقت یہ آگیا ہے کہ اخبار نویسوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اپنا اخبار بھی نہیں پڑھتے، اخبارات بھی کیا ہیں؟ اشتہارات ہی اشتہارات، قاری کے لیے کچھ بھی نہیں رہا، ویسے بھی آج کل ہاتھوں میں موبائل فون ہے اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے جہاں ہر قسم کا مواد تو میسر ہے مگر درست راہنمائی نہیں مل رہی، درست رہنمائی کے لیے کتاب اور بزرگوں کی محفل سے بڑھ کچھ نہیں ہے یہ دونوں اب اس حال میں ہیں کہ فکر کی گندم کے دانوں سے خالی ہیں کھلیان مرے، والا معاملہ ہے۔
زمانہ اس قدر بدل گیا ہے کہ آج انسان مسیحا بھی ہے اور قاتل بھی، ہر کوئی اپنی ذات کے صحرا میں کھو گیا ہے، دن رات صرف ایک ہی تکرار ہے کہ پیسہ کیسے کمایا جائے، دل و نگاہ نے نجانے کیسے کیسے روگ پال لیے ہیں، کتاب اور اخبار سے تعلق ختم ہو رہا ہے، یہ قاری کا قصور ہے یا کوئی معاملہ ہے، سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ اخبارات نے کب یہ سوچا اور سنجیدگی سے سوچا کہ موبائل فون ان کا متبادل کیوں بن رہا ہے، جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا جاتا ہے کہ بھائی ٹیکنالوجی کا دور ہے، مانا کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے یہ بھی دیکھیں اخبار میں قاری کے پڑھنے کو ہے کیا؟ خبر تو قاری کے پاس ہوتی ہے مگر اخبار خبر سے خالی ہوتے ہیں، دل حیرت زدہ ہے کہ جب اس قدر کنٹرول ہے تو پھر پی ایم ڈی اے جیسے قانون کی ضرورت کیا ہے؟ حکومت کا موقف ہے کہ فیک نیوز روکنا مقصود ہے، اگر معاملہ صرف اتنا ہی تو اس کے لیے قانون تو پہلے سے موجود ہیں، ان پر عمل درآمد کرائیے، حکومت کا ہاتھ کس نے روکا ہے؟ ابھی بھی وقت ہے، رسائل اور اخبار بہت کچھ چھاپ سکتے ہیں، یہ اس وقت ہوگا اس کے لیے اخبار کے مدیر کو بیدار کرنا پڑے گا، مدیر کو بیدار کردیں تو اخبارات اور جرائد بھی پورے قد کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے، اگر مدیر کو بیدار نہ کیا گیا تو جس طرح آج لائبریریاں خاموش ہیں اور کتابیں شیشے کی الماری کے اندر سے جھانک رہی ہیں اسے طرح اخبارات بھی ’’شو پیش‘‘ بن جائیں گے، اخبار اور بہترین رسائل تو تہذیب کی معتبر آواز ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجیے، اخبارات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی جگہ بنائیں، اپنی کھوئی ہوئی مارکیٹ واپس لیں، بہتر زبان لکھیں، درست خبر دیں، بریکنگ نیوز کے چکر میں اور آگے بڑھ جانے اور پہلے خبر دینے کے چکر سے باہر نکلیں، خبر بھی میرٹ پر شائع کریں اور تصویر بھی، کسی کو راضی کرنے کے لیے اور کسی کی ناراضی سے بچنے کے لیے خبر شائع کی جائے اور نہ تصویر، خبر کی اشاعت کے لیے میرٹ بنائیں تو اخبارات کی مارکیٹ انہیں واپس بھی مل جائے گی۔