فیٹف۔ مغرب کے دہرے معیار کا ایک نمونہ

219

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا متعصبانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنے والے یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا تین روزہ اجلاس جمعرات کو ختم ہو گیا جس میں پاکستان کو بدستور نگرانی کی فہرست، گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت ایک اور یورپی ملک جرمنی نے کی۔ اجلاس میں ایک جانب پاکستان کی کارکردگی پر تعریفوں کے پل باندھے گئے اور اس امر کا اعتراف بھی کیا گیا کہ مجموعی طور پر 27 میں سے 26 شرائط پاکستان نے پوری کر دی ہیں تاہم اب پاکستان کو اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، اجلاس میں اس امر کو بھی سراہا گیا کہ ایکشن پلان 2021ء کے سات میں سے چار نکات پر مقررہ وقت سے پہلے عمل درآمد کر لیا گیا، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کی پیش رفت کو بھی نمایاں قرار دیا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کہ پاکستان مزید چار ماہ کے لیے زیر نگرانی مملک کی فہرست میں شامل رہے گا اور فروری 2022ء میں ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستان کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور پھر یہ فیصلہ صادر کیا جائے گا کہ پاکستان کو زیر نگرانی ممالک کی فہرست میں سے خارج کیا جانا ہے یا اس پر یہ تلوار مزید لٹکائے رکھنا ضروری ہے۔ عالمی نیٹ ورک اور مبصر تنظیموں کے 205 ارکان کے وفود نے اجلاس میں حصہ لیا، جس میں جرائم اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف عالمی کارروائی کو مضبوط بنانے کے لیے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں ترکی، اردن اور مالی کو بھی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترکی کے فریم ورک پر عملدرآمد میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کے بعد اسے فیٹف ایکشن پلان مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جب کہ بوٹسوانا اور موریشس کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا، زمبابوے کو آن سائٹ مانیٹرنگ کا عمل مکمل ہونے پر گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی میوچل ایویلویشن جیسی دہری نگرانی کا سامنا ہے اور پاکستان دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکوس نے ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا اس وقت پاکستان کو ایک ساتھ عملدرآمد کے لیے دو ایکشن پلان دیئے گئے ہیں جن کے34 نکات ہیں جن میں سے پاکستان نے 30 پر بڑے پیمانے پر عمل کیا ہے تاہم پاکستان بدستور مانیٹرنگ کے تحت رہے گا، پاکستان کی جانب سے جون میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کئے گئے، مجموعی طور پر پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان سے متعلق اچھی پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے پاکستانی حکومت کا عزم واضح ہے، اسی وجہ سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہو رہی، پاکستانی حکومت ہمارے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور ہم انہیں کہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد باقی 4 نکات پر عملدرآمد کریں، انڈین وزیر کے بیان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں انڈین وزیر کے بیان پر تو کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، میں یہ کہوں گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک ٹیکنیکل باڈی ہے اور ہم اپنے فیصلے اتفاق رائے سے کرتے ہیں، پاکستان نے رواں سال جون میں دیئے گئے ایکشن پلان کے 7 میں سے 4 ایکشن پلانز پر بڑے پیمانے پر پیش رفت کی ہے جس میں مالی معاملات کی اندرونی و بیرونی نگرانی، نان فنانشل سیکٹر بزنس، عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قانون سازی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان نے 2018ء میں دیئے گئے پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر بڑے پیمانے پر پیش رفت کی ہے۔ پاکستان نے چند اہم اقدامات کئے لیکن پاکستان کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے گروپوں کے سرکردہ افراد کے خلاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی کرنا ہو گی، ان تمام اقدامات کا مقصد کرپشن اور منظم جرائم پیشہ لوگوں کو اپنے جرائم سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے، میرا خیال ہے کہ پاکستان کی حکومت اس عمل سے متعلق اپنی مضبوط کمٹمنٹ کو جاری رکھے گی، انہوں نے کہا فیٹف نے پنڈورا پیپرز کا سخت نوٹس لیا ہے اور پاکستان سمیت تمام رکن ممالک کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر بیرون ملک آف شور کمپنیاں رکھنے والے مالکان یا غیر ملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے نام اور دیگر تفصیلات مہیا کر کے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کی تحقیقات کرنے والوں کی معاونت کریں۔ خیال رہے کہ اس سال جون میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے آخری نکتے پر بھی عملدرآمد کرنا ہو گا اور اس کے ساتھ ہی سات نکاتی نیا ایکشن پلان بھی دیا تھا، اب پاکستان کو مزید چار ماہ کے لیے نگرانی کی گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، پاکستان کے اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ اب آئندہ سیشن میں ہو گا۔ فیٹف کے گزشتہ اجلاس کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ کے ایک رکن نے واضح الفاظ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے لیے بھارت نے اپنا اثر و رسوخ اور دبائو استعمال کیا تھا موجودہ اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر کے اسی بیان سے متعلق فیٹف کے صدر سے سوال بھی کیا گیا مگر انہوں نے اس کی تردید اور بھارتی وزیر کے بیان کی مذمت کی بجائے جواب گول کر دیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فیٹف کے معاملات میں سب کچھ درست نہیں بلکہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے جس کی جانب واضح اشارہ بھارتی وزیر کے بیان میں کیا گیا ہے۔ یوں بھی فیٹف ہی نہیں دیگر بین الاقوامی اداروں خصوصاً اقوام متحدہ، اس کی سلامتی کونسل اور دیگر ذیلی اداروں کی کارکردگی دیکھی جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ان کا طرز عمل متعصبانہ اور مسلمان دشمنی پر مبنی ہے، پاکستان، ایران، ترکی اور دوسرے مسلمان ممالک جو عالمی سطح پر کوئی موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں انہیں ذرا ذرا سی بات پر معمولی حیلوں بہانوں کا سہارا لے کر مختلف نوعیت کی پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ اقوام متحدہ، اس کی سلامتی کونسل اور دیگر ذیلی اداروں کو اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک کی جانب سے غیر قانونی طور پر قبضہ کئے گئے علاقوں میں فوجی دستوں کے مظالم نظر آتے ہیں نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جاتا ہے اسی طرح ان ممالک میں اقلیتوں سے روا رکھا جانے والا سلوک بھی عالمی اداروں کی نظروں سے قطعی اوجھل رہتا ہے اس کے برعکس پاکستان جیسے مسلمان ممالک میں معمولی واقعات پر آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے اور طرح طرح کی جکڑ بندیوں اور پابندیوں کے ذریعے ان کی معیشت تباہ کرنے اور انہیں پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ رسول آخر الزمان، محسن انسانیت حضرت محمدؐ کی شان اقدس میں گستاخیوں کو آزادی اظہار کے نام پر جس طرح یورپی ممالک میں روا رکھا جاتا ہے، خدانخواستہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں کسی مسلمان ملک میں یہی طرز عمل اختیار کیا جائے تو کیا مغرب اسے برداشت کر پائے گا ؟ مختصر یہ کہ بین الاقوامی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ اور مغرب کے اشاروں پر غیر منصفانہ فیصلے سنانے کی بجائے عدل اور انصاف کے پوری دنیا کے لیے یکساں اصولوں کو اپنے فیصلوں اور کارکردگی کی بنیاد بنائیں تاکہ ان کا اعتماد اور وقار بحال ہو سکے۔