تینوں بڑی پارٹیوں کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے،سراج الحق

226

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں مغرب کا نظام نافذ ہے۔ تینوں بڑی پارٹیاں جو ملک پر مسلط ہیں ، ان کی سیاست کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ سابق اور موجودہ حکومتوںمیں کوئی فرق نہیں۔ لوگ ایک ظالم کے خلاف دوسرے ظالم کا ساتھ نہ دیں۔ ناانصافی پر خاموش رہنا بھی ناانصافی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ، مگر 73برس میں ہم یہاں اللہ کا نظام نافذ نہیں کر سکے۔ آج عدالتوںمیں قرآن کا نظام نہیں، پارلیمنٹ کے ماتھے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے ، مگر وہاں قانون سازی اسلام کے مخالف ہوتی ہے۔ بھوک، غربت، نفسیاتی امراض، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کا نظام نہیں۔ سودی معیشت ، مخلوط نظام تعلیم، امن و سکون سے خالی معاشرہ اور دیگر امراض دین سے دوری کی علامت ہیں۔ وزیراعظم نے خود کہا کہ پاکستان میں 70لاکھ نوجوان نشے میں مبتلا ہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے ملک کے لیے کچھ نہیںکیا۔ 15 دن میں تیل کی قیمتوں میں 3 بار اضافہ ہوا۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں 100 سے 3 سو فیصد بڑھیں، ادویات کی قیمتیں 14بار بڑھائی گئیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے لندن میں بیٹھ کر کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے اوورسیز پاکستانیوں کو بڑا فائدہ پہنچا۔ وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ قوم مہنگائی برداشت کرے۔ وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ سکون قبر میں ہی آئے گا۔ غیرسنجیدہ حکمران فہم اور فراست سے خالی ہیں۔ اس حکومت نے کشمیر کا سودا کیا۔ غیر ترقیاتی اخراجات بڑھائے۔ وی آئی پی کلچر میں اضافہ ہوا۔ قوم سے اپیل ہے کہ وہ خاموشی کے بجائے ناانصافی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائے اور جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک واضح منشور ہے۔ ہمارے کسی لیڈر کا نام پاناما یا پنڈوراپیپرز میں نہیں آیا۔ ہماری کوئی شوگر مل نہیں۔ جماعت اسلامی کو موقع ملا، تو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے معیشت کو بحران سے نکالیں گے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ جمعے کا دن امت مسلمہ کے لیے سعادت کا دن ہے۔ ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ قوم کو متحد ہو کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی۔ رزق کی فراوانی، امن اور سکون صرف اور صرف اسلام میں پناہ لینے میں ہے۔ دین اسلام پوری انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے۔ اللہ کے نزدیک صرف ایک ہی نظام ہے اور وہ نظام اسلام ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم گزشتہ 7 دہائیوں میں ملک میں اس نظام کو نافذ نہیں کرا سکے۔ انھوں نے کہا کہ آج مہنگائی اور غربت ہر گھر میں ناچ رہی ہے اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عظیم الشان ریاست سے نوازا۔ پاکستان 22کروڑ باصلاحیت لوگوں کا ملک ہے۔ ہم گندم، چنا، گنا اور کپاس پیدا کرنے والے 10 بڑے ملکوںمیں شامل ہیں۔ ہماری لائیواسٹاک بہترین کوالٹی کی ہے اور ہم دنیا میں لائیواسٹاک کے حوالے سے پانچواں بڑا ملک ہیں۔ پاکستان 5 دریائوں کی سرزمین اور 4 موسموں کی نعمت سے مزین ہے۔ یہاں 65فیصد ذہین ترین اور باصلاحیت نوجوان ہیں۔ ہمارے مزدور اور کسان محنتی اور جفاکش ہیں، مگر اس سب کے باوجود آج ملک کا حال سب کے سامنے ہے۔امیر جماعت نے کہا کہ ربیع الاوّل کے مہینے کا تقاضا ہے کہ حضور پاکؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں پر نافذ کیا جائے اور بعد میں اس پیغام کو اپنے اردگرد اور انسانیت میںعام کیا جائے۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم ناانصافی اور ظلم پر خاموشی اختیار کر کے روزِ قیامت اللہ اور اس کے رسولؐ کا سامنا کر سکیں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ہمیں اپنے ماحول، اپنے گھر اور اردگرد سب لوگوں کو سیرت رسولؐ سے آشنا کرانا ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد افراد کی دنیاوی اور اخروی نجات ہے۔ انھوں نے کہا کہ ظلم اور ناانصافی، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف اور ملک میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے 31اکتوبر کو اسلام آباد میں بھرپور مظاہرہ کریں گے۔ قوم سے اپیل ہے کہ وہ ہمارا دست و بازو بنے۔