چین کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں،5 برس میں عالمی اقتصادی قوت بن سکتاہے

186

اسلام آباد (میاں منیر احمد) چین آئندہ 5 سال میں ہی دنیا کی بڑی اقتصادی قوت بن سکتا ہے‘ امریکی پالیسی ساز دنیا پر حکمرانی جاری رکھنے کے لیے جنگوں کا سہارا لے رہے ہیں‘ چین بڑی خاموشی کے ساتھ اپنی معیشت بہتر بنا رہا ہے‘ اس کی بھارت سے جنگ کا بھی امکان ہے‘بیجنگ دنیا پر حکمرانی کے اصول اپنا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار فاروق عادل، تحریک انصاف کے رہنما انجینئر افتخار چودھری، سابق صوبائی وزیر علیم خان،عدالت عظمیٰ کے سینئر وکیل ڈاکٹر صلا ح الدین مینگل، پیپلز پارٹی ورکرز کی مرکزی رہنما ناہید خان،پاکستان ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی، اولمپیئن رائو سلیم ناظم، ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت شفیق چودھری، طب کے شعبے سے وابستہ میری سسٹم انٹرنیشنل فارماسیٹیکل ڈسٹری بیوشن کی اہم کاروباری شخصیت پرویز ذوالفقار اور فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے صدر
سردار طاہر محمود نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا چین آئندہ 10سال میں امریکا سے بڑی اقتصادی قوت ہوگا؟‘‘ فاروق عادل نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چین کی حکومت اور پالیسی ساز بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہے ہیں‘ اقتصادی میدان میں اپنا ہنر دکھا رہے ہیں‘10 سال تو بہت دور کی بات ہے ‘ وہ بہت پہلے ہی امریکا سے بڑی اقتصادی قوت بن جائیںگے۔ افتخار چودھری نے کہا ہے کہ اگر آئندہ10 سال کے عرصے میں امریکا کی مدد سے بھارت ایک طاقت بنا تو اس عرصے میں بھارت اور چین کی جنگ ہو سکتی ہے جو امریکا کی سبقت کو برقرار رکھے گی‘آئندہ 10 سال کے دوران پاکستان کی بقا پر وار ہو سکتا ہے‘ اس صورت میں چین خاموش تماشائی ہو گا۔ علیم خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنا وژن دیا ہے اور وہ ملک میں ترقی کے لیے چین سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں‘ اقتصادی میدان میں چین دنیا کا سپر پاور بن رہا ہے۔ ڈاکٹر صلا ح الدین مینگل نے کہا کہ اس خطے میں امریکا اور چین کے بھی بہت سے مفادات ہیں‘ بھارت امریکا کا اتحادی ہے‘ چین اور امریکا کے مابین سمندری روٹس پر بہت تنائو ہے جس کے اثرات اس خطے پربھی پڑ رہے ہیں‘ چین اس کوشش میں ہے کہ وہ دنیا کی مارکیٹوں کو قابو میں کرے‘ امریکا کی ترجیحات یہ ہیں کہ وہ دنیا پر حکمرانی جاری رکھے ‘پاکستان کو دیکھنا اور سمجھنا ہوگا کہ اس کا مفاد کس میں ہے ۔ ناہید خان نے کہا کہ چین کی اقتصادی میدان میں مسلسل ترقی اور پیش رفت اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ وہ بہت جلد عالمی مارکیٹ میں سب سے آگے کھڑا ہوگا۔ رائو سلیم ناظم نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چین 10 سال سے بہت پہلے دنیا کی ایک بہت بڑی اقتصادی قوت بن سکتا ہے اس کی پالیسی بہت واضح ہے اور آہستہ آہستہ اس جانب گامزن ہے جبکہ امریکا اپنے زیادہ تر وسائل جنگوں میں جھونک رہا ہے ‘ افغانستان سے وہ 3 ہزار ارب ڈالر کا نقصان کرکے نکلا ہے‘ اس نے عراق جنگ میں وسائل لگائے‘ اس سے قبل ویت نام میں اسے شکست ہوئی لیکن اس کے باوجود اس کے پالیسی ساز جنگوں سے باز نہیں آرہے اور دنیا پر غلبے کے لیے وہ جنگ کا راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن چین خاموشی کے ساتھ اپنی معیشت بہتر بنائے چلا جا رہا ہے اور آج اسے کوئی چیلنج کرنے والا نہیں ہے‘ چین عدم مداخلت کا داعی ہے لیکن امریکا نے بہت سے ممالک میں مداخلت کی اور جنگوں میں پھنسا ہوا ہے جہاں اس کے وسائل ضایع ہو رہے ہیں‘ اب کورونا کی وجہ سے امریکا بہت متاثر ہوا ہے مگر چین نے سب سے بڑھ کر اس وبا کی روک تھام کے لیے کام کیا‘ آلات اور ویکسین بنائی اور دنیا بھر میں فراہم کی۔ شفیق چودھری نے کہا کہ10 سال کا عرصہ تو بہت زیادہ ہے چین تو بہت پہلے یہ ہدف حاصل کر سکتا ہے‘ اسے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ ملک عبدالعزیز نے کہا کہ چین آئندہ10سال کے بجائے5 سال میں ہی دنیا کی ایک بڑی اقتصادی قوت بن سکتا ہے‘ وہ اقتصادی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پرویز ذوالفقار نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور دنیا پر حکمرانی کرنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور چین یہ اصول تیزی سے اپنا رہا ہے‘ وہ تیزی سے دنیا کی معیشت پر حکمرانی کے قابل ہو رہا ہے‘ ہمیں اس کی پالیسی پر نظر رکھنا ہوگی تاکہ اسے دیکھ سکیں کہ وہ کہاں اور کیسے کامیاب ہو رہا ہے۔ سردار طاہر محمود نے کہا کہ چین10 سال سے بہت پہلے دنیا کی ایک بہت بڑی اقتصادی قوت بن سکتا ہے۔