حکومت اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بند کرے، لیاقت بلوچ

244

کراچی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ریاست مدینہ بنانے میں مخلص ہے تو نفاذ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بند کرےا ور جبری تبدیلی مذہب بل ،گھریلو انسداد تشدد بل منظور کروانے اورنظام تعلیم کو سیکولر بنانے کی کوشش نہ کرے۔

ادارہ نورحق میں ملی یکجہتی کونسل کی صوبائی کونسل کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم نے دینی جماعتوں کو نفاذ اسلام ،یکجہتی واتحاد کیلئے اکھٹا کیا اور وہ تمام دینی جماعتیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، وحدت اور یکجہتی ، دستور ، مقاصد اور اپنے 17نکاتی ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں ۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ  ہمارا مقصد یہی ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،تمام مسالک کے درمیان دینی مشتراک کے ساتھ ساتھ محبت اور اعتماد کی فضاءقائم ہو ، پاکستان کے اسلامی اور نظریاتی کرار کی حفاظت ہو اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ملک بنانے کے لئے ہم اپنا کردار ادا کریں ۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ  ملی یکجہتی کونسل کوئی انتخابی یاسیاسی اتحادی پلیٹ فارم نہیں بلکہ خالصتاً ایک نظریاتی اور تمام دینی محاذوں پر مشترکہ بنیادوں پر کام کرنے کا پلیٹ فارم اور مشترکہ جدوجہد کا نام ہے ۔

نائب امیر جماعت اسلامی  پاکستان کا کہنا تھا کہ جبری تبدیلی مذہب بل سمیت دیگر غیر اسلامی قانون سازی اور حکومت کے اسلام دشمن اقدامات کے خلاف ملی یکجہتی کونسل بھر پور احتجاج اور مزاحمت کرے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ اسلام سے متصادم قانون سازی ،آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دباؤ میں اسلامی قوانین میں تبدیلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ، حکمران امریکا و مغرب اور بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے ان کے آلہ کار بن کر عوام کے احساسات و جذبات کو مجروح کرنے اور اسلامی اقدار و روایات اور شعائر اسلام کی پامالی سے باز رہیں۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ سیکو لر اور لبرل عناصر کی مذموم سازشوں اور کوششوں کو ہرگز کامیاب نہیں ہو نے دیا جائے گا ،ملی یکجہتی کونسل کے تحت ”اسلام سے متصادم قانون سازی “کے خلاف سیمینار اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی ،مغربی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش اور سازشوں کو کسی صورت پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔