شہدادپور ، ریلوے کے چھوٹے گریڈ کے ملازمین نظر انداز

117

شہدادپور ( نمائندہ جسارت) وفاقی گورنمنٹ پاکستان نے ریلوے کے چھوٹے گریڈ کے ملازمین کو نظر انداز اور لاوارث کر دیا ہے، اس سال دوران ڈیوٹی سات چوکیدار ملازمین شہید ہو چکے ہیں مگر حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز افسران نے ملازمین کی سرپرستی نہیں کی۔پریم یونین ریلوے کے ہر ملازم کے ساتھ ہر وقت ہے، ریلوے پریم یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری خیر محمد تنیو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے کے ہزاروں ملازمین پر مشتمل پریم یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری خیر محمد تنیو نے شہدادپور کے قریب گاؤں احمد بگھیو میں دو روز قبل دوران ڈیوٹی ٹرین کی ٹکر سے فوت ہو جانے والے ریلوے کے چوکیدار رضا حسین بگھیو کے لواحقین سے فاتحہ و اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر ریلوے آفیسر غلام حیدر جمالی،بلاول بگھیو،پی ٹی آئی رہنما چودھری نوید انجم گاؤں کی معزز شخصیت وڈیرو محمد حسن بگھیو و دیگر افراد موجود تھے۔ اس موقع پر پریم یونین کے رہنمائوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ ریلوے ڈپارٹمنٹ کے ملازمین سے ناانصافیاں کی ہیں اور ان کا رویہ سوتیلی ماں جیسا رہا ہے جو قابل مذمت ہیں ریلوے کے لوئر کلاس ملازمین کو نہ ان کی زندگی میں کوئی فائدے ملے نہ مرنے کے بعد ان کے لواحقین کو کوئی ریلیف دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ریلوے کے سات چوکیدار ملازم دوران ڈیوٹی شہید ہو گئے مگر افسوس وزیراعظم پاکستان سے لے کر وفاقی وزیر ریلوے وریلوے کے اعلی افسران و دیگر حکومتی نمائندوں کی بے حسی اور عدم توجہ قابل مذمت ہے مگر ہم ریلوے پریم یونین کے پلیٹ فارم سے سخت جدوجہد کر کے شہیدوں کو ان کا حق دلا رہے ہیں اب حال ہی میں شہدادپور کے قریب گینگ نمبر 5 میں کچے چوکیدار رضا حسین بگھیو ٹرین کی ٹکر سے شہید ہو گئے مگر افسوس ریلوے وزارت کو اس کا کوئی احساس نہیں ہوا مگر ہم پریم یونین کے حکم اور پالیسی کے تحت پہنچیں ہیں اور شہید کے ساتھ اور ورثا کی ہر ممکن مدد کریں گے اور وفاقی وزیر ریلوے اور اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شہید رضا حسین بگھیو کے ورثاکو فوری طور پر مدد کے طور پر دس لاکھ روپے دیے جائیں اور شفاف انکوائری کرائی جائے اور حقائق معلوم کیے جائیں کہ ور سال ریلوے کے ملازمین شہید ہو رہے ہیں۔