وزیراعلیٰ بلوچستان نے ارکان کو غائب کرنے کا الزام مسترد کردیا

91

کوئٹہ (نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد ڈرامائی صورت حال اختیار کرگئی ہے، حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) سے مزید2اراکین ٹوٹ کر ناراض دھڑے کی جھولی میں جا گرے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی، وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد
پر 25 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی۔ادھر ناراض دھڑے کے رکن ظہور بلیدی نے الزام لگایا ہے کہ 34 اراکین اسمبلی نے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کی رہائش گاہ میں پناہ لے لی ہے کیونکہ 4 ارکان کو حکومت نے لاپتا کردیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتا اراکین اسمبلی کو بازیاب کروایا جائے اور اراکین کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اراکین کو غائب کرانے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ ماہ سے سوشل میڈیا پر ایک گروپ کا پروپیگنڈا جاری ہے، گزشتہ روز تحریک عدم اعتماد کے موقع پر اراکین کے غائب ہونے کا الزام لگایا گیا،کوئی ممبر اپنی مرضی سے نہیں آتا تو کہا جاتا ہے وہ غائب ہوگیا ہے۔جام کمال کا کہنا تھا کہ رکن اسمبلی بشریٰ رند کابیان بھی آگیا کہ وہ علاج کے لیے گئی ہیں،کبھی وزیراعظم کی آمد سے متعلق بات کی گئی، ایساپروپیگنڈا نامناسب ہے۔ اْن کا کہنا تھا کہ اِن لوگوں نے پارلیمانی گروپ کے نئے لیڈرکی درخواست رات گئے اسپیکر کے پاس جمع کرائی ہے اور جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ غائب ہیں درخواست پر ان کے بھی دستخط ہیں، ان لوگوں کو جاننا چاہیے کہ ہر قدم اور معاملے کے قواعد و ضوابط ہوتے ہیں، ان لوگوں کی مایوسی اور لالچ اب سمجھ سے بالاتر ہے۔قبل ازیںبلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر میرظہور بلیدی نے بی اے پی کے تمام ایم پی ایز کو خط لکھ دیا جس میں کہاگیاہے کہ تمام پارلیمانی ارکان پارلیمانی قیادت کے فیصلے کے مطابق ووٹ استعمال کرینگے بصورت دیگر دستور کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ میرظہوراحمدبلیدی نے کہاکہ ہم بی اے پی کے لاپتا ایم پی اے سے رابطہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے سیل فون بند جا رہے ہیں اور ابھی تک ان کاپتا نہیں چل سکا ہے۔ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر داخلہ صاحب جب تک وہ بازیاب ہو کر اپنے گھر والوں تک نہیں پہنچتے ہم آپ کو بھی شریک جرم سمجھتے ہیں۔