بیروزگار نوجوان مایوس نہ ہوں ،31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں ،سراج الحق

140
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کی ضمانت نظام مصطفیؐ کے نفاذ میں ہے۔ پنڈورا پیپرز پرعدالت عظمیٰ میں ،مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف عوام کا مقدمہ چوکوں ،چوراہوںمیں لڑیں گے۔ بے روزگار نوجوانوں سے کہتا ہوں ملک چھوڑنے یا مایوس ہونے کے بجائے آگے بڑھیں اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں۔ 31
اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد کی طرف ایک زبردست یوتھ مارچ ہوگا۔ 74 سال میں اگر اسلامی نظام نافذہو جاتا توآج ہم آئی ایم ایف کے غلام نہ ہوتے۔ 3 سال میں حکومت نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جو مدینے کی اسلامی ریاست کے مطابق ہو۔ ملک میں جھوٹ، سود اور کرپشن کا نظام ہے۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرنے والوں نے پہلے سے برسرروزگار افراد کو بھی گھر بھیج دیا۔ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں اٹھائے نوکریوں کی تلاش میں گھوم رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، اور اسکلڈ لیبر بیرون ملک شفٹ ہو رہی ہے ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شرح بے روزگاری 6 فیصد، آزاد ماہرین 12سے 14فیصد بتا رہے ہیں۔ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں خودکشی، ڈپریشن بڑھ رہا ہے اور اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزیراعظم خود تسلیم کرتے ہیں کہ 70 لاکھ نوجوان نشے کے عادی ہو گئے۔ انڈوں، مرغیوں اور کٹے پالنے کے نعروں سے ملک ترقی نہیں کرتے۔50 ہزار گھروں کا وعدہ کرکے آج تک ہزار بھی نہ بنا سکے۔ وزیراعظم نے قوم سے جھوٹے وعدے کیے۔ وزیراعظم خود کہتے تھے آٹا، دال چینی مہنگی ہو تو سمجھو حکمران چور ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ ہوا۔ بنگلا دیش، بھارت، سری لنکا اور افغانستان کی کرنسی ہم سے مضبوط ہے۔ شرم کی بات ہے اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈالر کی اڑان پر خوشی منا رہے ہیں اور کہتے ہیںاس سے اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ پہنچا۔ ملک میں ووٹ اورپولنگ اسٹیشن کو یرغمال بنایا جاتا ہے، جماعت اسلامی شفاف انتخابات چاہتی ہے۔ عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، قوم کا مقدمہ ہر سطح پر لڑیں گے۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیاسیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں سابق ایم این اے اور جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، صدر جے آئی یوتھ پاکستان زبیر گوندل، سینئر نائب صدر جے آئی یوتھ رسل خان بابر، مرکزی صدر تنظیم تاجران پاکستان کاشف چودھری اورصدر جے آئی یوتھ پنجاب شمالی اویس اسلم مرزا بھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ ساری دنیا میں سال میں ایک بار قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ہمارے یہاں ہر مہینے قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔بجلی کا بڑا حصہ آبی ذرائع سے پیدا ہو رہا ہے، جو کہ سب سے سستا ہے، لیکن فی یونٹ قیمت آسمان سے بات کر رہی ہے۔ حکومت میں آنے سے پہلے وزیراعظم نے وعدہ کیا تھاکہ وہ کرپشن کا خاتمہ کریںگے اور مافیاز کوحکومت میں شامل نہیں کریں گے۔ وزیراعظم بتائیں کہ ان کی حکومت میں جتنے اسکینڈل آئے اس میں پی ٹی آئی کے کتنے لوگ شامل ہیں۔ وزیراعظم مافیاز پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتے کیونکہ ان کے دائیں بائیں وہی لوگ بیٹھے ہیں اور ان کے دوست ہیں۔پی ٹی آئی کے کرپشن کو ختم کرنے کے دعوے ہوائی ثابت ہوئے۔ گزشتہ 3 برس میں کرپشن میں اضافہ ہوا اور بیڈ گورننس کی تاریخ لکھی گئی۔ افسوس ہے عدالت عظمیٰ نے پاناما کے 436 افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ پنڈورا پیپرز میں بھی پی ٹی آئی کے موجودہ ارکان اسمبلی، ججز اور جرنیلوں کے نام ہیں۔ اگر پاناما لیکس کی شفاف انکوائری ہو جاتی، تو پنڈوراپیپرز میں اتنے پاکستانیوں کے نام نہ آتے۔ پنڈورا اور پاناما لیکس کے خلاف عدالت عظمیٰ جائیں گے اور ہر فورم پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنانے والوں کا کڑا احتساب چاہتے ہیں۔ پاکستانی عوام 2 وقت کی روٹی کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن حکمران اشرافیہ کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ 3 کروڑ بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتے۔ غریبوں کے لیے صحت کی سہولتیں ناپید ہیں، لیکن حکمرانوں کے سر میں بھی درد ہو جائے تو بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں۔ اس دورنگی کے نظام کو ختم ہونا چاہیے۔ 73 برس سے ملک کے ریسورسز کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ پاکستان کو جان بوجھ کر اسلامی نظام سے دور رکھا گیا۔ تمام حکمران اشرافیہ ایک ہے۔ پارلیمنٹ میں حکومت اورنام نہاد بڑی اپوزیشن جماعتیں فکس میچ کھیل رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی،مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا اختلاف صرف نیب کیسز پر ہے، باقی ایشوز پر ایک ہیں۔ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ ایک فیصد نہیں100 فیصد ناکام حکومت ہے۔ آج اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لنگر خانے کے باہر قطار میں کھڑا مایوس ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل سودی معیشت سے نجات اور قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ میں ہے۔ جماعت اسلامی قوم سے اپیل کرتی ہے کہ ملک میں اسلامی جمہوری انقلاب کے لیے ہمارا ساتھ دے۔ اقتدار میں آ کر پارلیمنٹ، عدالت، نظام تعلیم اور دیگر شعبوں کو اسلام کے تابع کریں گے اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالیں گے۔