اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے ٗ حافظ نعیم الرحمن

145

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ نبی کریم ؐ کی تعلیمات اور سیرت النبی ؐ کا پیغام یہ ہے کہ قرآن و سنت پر عمل کیا جائے اوراسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کیا جائے ۔اسلام اپنی بالادستی قائم کرنے اور غالب ہونے کے لیے آیا ہے ،مدینہ جیسی اسلامی ریاست کا دعویٰ کرنے والے سوائے باتوں کے کچھ نہیں کررہے
، نیتوں کا دارومدار عمل پر ہوتا ہے اور موجودہ حکومت کا رویہ اسلامی ریاست کے مطابق نظر نہیں آتا ،حد تو یہ ہے کہ اسمبلی میں شراب کے خلاف بل ایک غیر مسلم نے پیش کیا جسے تمام حکومتی پارٹیوں نے مل کر مسترد کردیا ،حکمران دعوے کچھ اور کام کچھ کرتے ہیں اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ حکومت اسلامی ریاست کا نظام نہیں چاہتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ائر پورٹ کے تحت پی آئی اے سوسائٹی میں سہ روزہ سیرت کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام لوگوں کو ظلم کے خلاف متحد کرتا ہے ،ظلم کے خلاف لوگوں کو منظم کرنا دین کا کام ہے ۔ اس موقع پر ضلع ائر پورٹ کے امیر توفیق الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور یہ دین کا تقاضا ہے کہ جن کا حق مارا گیا ہے اور ظلم و نا انصافی ہوئی ہے ان کو ان کا حق دلایا جائے ۔ حکمران دوسرے ممالک سے پیٹرول کی قیمت کا موازنہ تو کرتے ہیں لیکن تعلیمی اخراجات کا موازنہ نہیں کرتے ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سالانہ صرف 400روپے فیس وصول کی جاتی ہے لیکن ہمارے یہاں تعلیم کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں ،حکومت نے 3 سال میں صحت کی کوئی بہتر سہولیات فراہم نہیں کیں، سود کے خاتمے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ،موجودہ نظام تبدیل کیے بغیر تبدیلی ممکن نہیں ہوسکتی ،قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے ،سیکھنے اور اس پر عمل کی ضرورت ہے ، ہم سب پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سمجھیں ،اللہ کے نظام کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد کریں ۔ظلم کے خلاف لوگوں کو منظم کرنا دین کا کام ہے ،تعصب اور لسانیت کی بنیاد پر کام کرنا دین کا کام نہیں ،ملک میں مہنگائی کرنے والے عوام کے مسائل ہی نہیں جانتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصا یہی تھا کہ غریبوں کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ تھے اور مظلوموں اور محروموں کی داد رسی کرتے تھے ۔