ام المومنین سیدہ عائشہؓ

191

نبی کریمؐ کی بعثت کے بعد انسانیت پر دو خواتین کا بڑا احسان ہے، سیدہ خدیجہؓ کا احسان یہ ہے کہ انھوں نے نبی کریمؐ کو سہارا دیا اور پیغام الہی کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے آپ کو ضروری اسباب مہیا کیے، جب کہ سیدہ عائشہؓ کا اعزاز یہ ہے کہ انھوں نے نبوی تعلیمات کو محفوظ رکھا اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔ اس دوسری خاتون کے تعلق سے امام ذہبیؒ نے ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں لکھا ہے: ’’میرے علم میں نہیں ہے کہ امت محمدیہ میں بلکہ پوری جنس خواتین میں ان سے زیادہ علم والی کوئی خاتون ہوں‘‘۔
انوکھی پرورش و پرداخت
سیدہ عائشہؓ کی نشو ونما ایک ایسے گھر میں ہوئی جو گھر اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتا تھا۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: ’’میں نے اپنے ہوش میں اپنے والدین کو ہمیشہ دین اسلام پر عمل پیرا ہی دیکھا‘‘۔ (صحیح بخاری)
حافظ ابن حجرؒ نے اپنی کتاب ’’الاصابہ فی تمییز الصحابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ سن 6ھ میں سیدہ عائشہؓ کی والدہ سیدہ ام رومانؓ الکنانیہ کی تدفین نبی کریمؐ نے اپنے ہاتھوں سے یہ کہتے ہوئے کی: ’’اے اللہ، ام رومان نے آپ اور آپ کے رسول کی راہ میں جن مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے وہ آپ سے چھپے ہوئے نہیں ہیں‘‘۔
ادبی نشو و نما
سیدہ عائشہؓ کی تعلیم و تربیت اپنے والد کے ہاتھوں ہوئی، ان کے والد قریش کے بڑے خاندانوں مثلا بنو ہاشم، بنو امیہ اور بنو مخزوم کے لوگوں کی طرح بے جا مشغلوں میں مصروف نہیں رہتے تھے۔ انھوں نے خود کو تجارت اور اپنے گھر کی اصلاح و تربیت کے لیے فارغ کر رکھا تھا۔ سیدہ عائشہ نے ان سے مختلف علوم و فنون مثلا فصاحت و بلاغت، شعر و شاعری، عربوں کی تاریخ اور علم نسب کو حاصل کیا۔ ابن ہشام الحمیری نے اپنی کتاب ’’السیرۃ النبوی‘‘ میں لکھا ہے کہ قریش کے انساب کا سب سے زیادہ علم سیدنا ابوبکرؓ کے پاس تھا۔
فطری قابلیت و صلاحیت
سیدہ عائشہؓ نبی کریمؐ کی باتوں کو بہت جلد سمجھ جایا کرتی تھیں اور انھیں بہت اچھی طرح سے بیان کرتی تھیں۔ یہ بات امام بخاریؒ کی بیان کردہ اس حدیث سے سمجھ میں آتی ہے۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ حیض کا غسل کیسے کیا جائے، نبی کریمؐ نے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے اس خاتون سے کہا ہے کہ مشک لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لو اور اس سے پاکی حاصل کرلو، خاتون نے کہا کہ اس سے کیسے پاکی حاصل کروں، نبی کریمؐ نے کہا اس سے پاکی کرلو، خاتون نے پھر کہا: کیسے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا: سبحان اللہ (تعجب ہے کہ یہ بات بھی نہیں سمجھتی) اس سے پاکی حاصل کرلو۔ اس وقت میں نے اس خاتون کو اپنی جانب کھینچا اور اس سے کہا: اس روئی کے ٹکڑے کو خون کی جگہ پر لگالو۔ یہ کہنے کے بعد اس خاتون کو سمجھ میں آیا کہ نبی کریمؐ کیا کہہ رہے ہیں۔ حیاداری نے سیدہ عائشہؓ کو مفہوم کی وضاحت سے باز نہیں رکھا۔ انھوں نے مفہوم کو سمجھ لیا اور بہترین انداز میں اس کی وضاحت کردی۔
سیدہ عائشہؓ کے پہلے شاگرد سیدنا عروہ ان کے علم کی وسعت سے بہت متاثر تھے، ان کو تعجب ہوتا کہ سیدہ عائشہؓ کو مختلف علوم خصوصا علم طب پر کس قدر گرفت حاصل ہے۔ امام احمدؒ نے مسند میں ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عروہؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: امی جان، مجھے آپ کے فہم کی صلاحیت پر تعجب نہیں ہوتا کیوں کہ آپ نبی کریمؐ کی بیوی اور سیدنا ابوبکر کی بیٹی ہیں۔ شعر و شاعری اور علم تاریخ پر آپ کی گہری نظر پر بھی مجھے بہت تعجب نہیں ہے، کیوں کہ آپ ابوبکرؓ کی بیٹی ہیں جو سب سے زیادہ علم رکھنے والوں میں سے ایک تھے۔ مجھے تعجب تو اس بات پر ہے کہ آپ کو طب کا علم کہاں سے اور کیسے حاصل ہوا؟ یہ سن کر سیدہ عائشہؓ نے عروہؓ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے عروہ! اللہ کے رسولؐ اخیر عمر میں جب بھی بیمار ہوا کرتے تو آپ کے پاس اس موقع پر عرب کے مختلف وفود آتے اور آپؐ کو مختلف طبی نسخے بتاتے، ان نسخوں کے ذریعے میں آپؐ کا علاج کرتی۔ اس طرح سے میں نے علم طب حاصل کیا۔
سیدہ عائشہؓ کا کہنا کہ ’’اس طرح سے‘‘، اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ گویا وہ یہ کہہ رہی ہوں کہ کسی بھی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے میرے لیے اتنا کافی ہے کہ میں بس ایک بار اسے برت لوں۔ امام ذہبی نے ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں ہشام بن عروہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے والد عروہؓ نے کہا: میں نے علم طب کے بارے میں سیدہ عائشہؓ سے زیادہ جانکاری رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ میں نے کہا، خالہ جان، آپ نے طب کا علم کس سے حاصل کیا؟ انھوں نے جواب دیا: لوگ ایک دوسرے کو طبی نسخے بتایا کرتے تھے، میں انھیں سنا کرتی اور وہ مجھے یاد ہوجایا کرتے۔
علمی نمونے
اب ہم شرعی نصوص کو سمجھنے میں سیدہ عائشہؓ کی اجتہادی و علمی صلاحیت اور ان کے ممتاز فقہی نمونوں کا ذکر کریں گے۔ صحابہ کرام کے درمیان سیدہ عائشہ کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے امام ابن قیم نے ’’اعلام الموقعین‘‘ میں لکھا ہے: ’’وہ صحابہ اور صحابیات جن کے فتاوی محفوظ ہیں ان کی تعداد ایک سو تیس سے کچھ زیادہ ہے۔ ان میں بھی جنہوں نے زیادہ فتوے دیے ہیں ان کی تعداد سات ہے: عمر بن خطابؓ، علی بن ابی طالبؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، ام المومنین عائشہؓ، زید بن ثابتؓ، عبداللہ بن عباسؓ اور عبداللہ بن عمرؓ‘‘۔
امام ترمذیؒنے ’’سنن‘‘ میں بیان کیا ہے کہ سیدنا ابو موسی اشعریؓ کہتے ہیں: ’’ہم صحابہ کے لیے جب بھی کسی حدیث کو سمجھنا مشکل ہوتا اور ہم سیدہ عائشہؓ سے اس سلسلے میں پوچھتے تو ہمیشہ ہم نے پایا کہ اس سلسلے میں ان کے پاس علم موجود ہوتا تھا‘‘۔ ’’السیر‘‘ میں امام ذہبیؒ کے ذریعے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیدہ عائشہؓ کے ذریعے روایت کردہ احادیث کی تعداد دو ہزار دو سو دس ہے، جن میں سے ایک سو چوہتر احادیث بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہیں، جب کہ صرف بخاری میں چوّن احادیث ہیں اور صرف مسلم میں انہّتر احادیث ہیں۔
سیدہ عائشہؓ نے اکسٹھ مسئلوں میں کبار صحابہ سے اختلاف کیا ہے اور ان پر استدراک کیا ہے۔ انھوں نے 13 احادیث کے سلسلے میں ابوہریرہؓ سے اختلاف کیا، جب کہ عبداللہ بن عمرؓ سے دس مسائل میں اور عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عباسؓ سے آٹھ مسائل میں اختلاف کیا۔ ان تمام مسائل اور احادیث کو ریسرچ اسکالر فاطمہ قشوری نے اپنی کتاب ’’عائشہ فی کتب الحدیث والطبقات‘‘ میں شمار کیا ہے۔ علما نے سیدہ عائشہ کے استدراکات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں ابو منصور البغدادی التاجر نے ایک کتاب لکھی تھی جو ہم تک نہیں پہنچ سکی۔ امام زرکشی نے بھی اس موضوع پر ایک کتاب لکھی اور اس کا عنوان رکھا “الاجابہ لایراد ما استدرکتہ عائشہ علی الصحابہ‘‘۔
سیدہ عائشہؓ کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کے پاس علوم نبوت کا خزانہ ہے، ان کو اس بات کا بھی علم تھا کہ لوگوں کو ان کی بہت ضرورت ہے، کیوں کہ وہ عالمات کی امام تھیں اور ان کے پاس خواتین سے متعلق فقہی مسائل کا علم تھا جن سے عمومی طور پر بہت سے مرد علما صحابہ ناواقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عبداللہ بن عمرو بن العاص نے ایک ایسے مسئلے میں فتوی دیا جس میں ان کا تخصص نہیں تھا اور جس مسئلے میں وہ خواتین کو ہونے والی پریشانیوں سے وہ واقف نہیں تھے تو فوراً ہی سیدہ عائشہ نے ان پر نقد کیا، ان کی غلطی کی نشان دہی کی اور خواتین کو ہونے والی پریشانیوں کے پیش نظر ان کے فتوی کو غلط قرار دیا۔
امام مسلمؒ نے بیان کیا ہے کہ سیدہ عائشہ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے عورتوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ غسل کریں تو اپنی چوٹیوں کو کھول دیں۔ یہ سن کر عائشہؓ نے کہا: تعجب ہے ابن عمروؓ پر، وہ عورتوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ جب غسل کریں تو اپنی چوٹیوں کو کھول دیں، انھوں نے سر منڈانے کا ہی حکم کیوں نہیں دے دیا؟ میں اور نبی کریمؐ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، اور میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالا کرتی تھی۔
ترجمہ: شعبہ حسنین ندوی