توبہ کے انعامات

159

قرآن بتاتا ہے کہ اللہ توبہ کرنے والوں کو متعدد انعامات سے نوازتا ہے۔ سیدنا آدمؑ نے جب جنّت میں اپنے قصور پر معافی مانگی، تو اللہ ربّ العالمین نے اْنھیں نبوت عطا کرکے انسانیت کی رْشد و ہدایت کے منصب پر فائز کردیا اور انسانوں کا باپ، جدالاجداد بنا دیا اور قیامت تک اْن کی نسل کو تکریمِ آدمیت اور شرفِ انسانیت سے بہرہ وَر کرکے اشرف المخلوقات بنا دیا۔
ظلم، زیادتی اور گناہ و خطا کے بعد توبہ اور اصلاحی اعمال کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ بھی بندے کی طرف متوجہ ہوتا اور اْسے اپنی رحمتوں اور مغفرتوں کے حصار میں لے لیتا ہے۔
سورہ الانعام میں ارشاد فرمایا: ’’جو شخص نادانی سے کوئی خطا کر بیٹھے، پھر اْس کے فوراً بعد اللہ کی طرف پلٹ آئے، توبہ واستغفار کرے اور غلطی کو درست کرلے، تو اللہ بہت معاف اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔ (الانعام: 54) یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ اپنے بندے کی طرف رْخ نہ کرے، توجہ نہ کرے، اْس کی توبہ قبول نہ کرے ، اْسے معاف نہ کرے، اْس پر اپنے رحم و کرم کا سایہ نہ کرے۔ اللہ کا بندے کی طرف پلٹنا یہی ہے کہ وہ اْسے معاف کردے، اْس کے دامن سے اْس قصور کو دھو ڈالے، اور اْس پر اپنے انعامات کی بارش برسا دے اور اْس کو اہلِ ایمان میں شمار کرتے ہوئے اپنی محبت سے نوازے۔
اللہ توبہ کرنے والے بندوں پر ایک اور بڑا انعام یہ کرتا ہے کہ اْن کی خطاؤں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ توبہ، ایمان اور عملِ صالح اْس بندے کو اس انعام کے اہل بنادیتے ہیں کہ ربِّ کریم اپنی خاص رحمت سے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا انوکھا انعام کرتا ہے، جو اْس کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ اس قدر لطف و کرم، بخشش و عطا صرف اْسی کا کام ہے۔
توبۃ النصوح
اللہ اور اْس کے رسولؐ کا بار بار اہلِ ایمان کو متوجہ کرکے توبہ کی ضرورت و اہمیت کا احساس دلانا اپنے بندوں پر رحم و کرم کے سوا کسی اور چیز کا ثبوت نہیں۔ بس یہ کہ اْس کے بندے اْس کی طرف پلٹ آئیں، اْس کی بارگاہ میں عاجزی، اِلحاح و زاری اور مغفرت طلبی کا رویہ اپنائیں۔ زبان سے توبہ توبہ کرنے کے بجاے عملی طور پر توبہ کے سچے اور حقیقی راستے کا انتخاب کریں اور مثبت رویہ اپنائیں۔ قصور و خطا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اس سے خبردار اور محتاط رہنا لازم ہے، مگر گناہ سرزد ہونے کی صورت میں، جو ناممکن نہیں… اللہ کی بارگاہ میں پلٹنا، توبہ کرنا، قصور کا اعتراف کرکے معافی مانگنا، اْس کی تلافی، اصلاح کرنا ہی بچاؤ اور دین و دنیا کی سلامتی کا واحد ذریعہ اور راستہ ہے۔ بندگانِ خدا سے مطلوب ’توبۃ النصوح‘ ہے۔ ایک سچی، کھری، پْرعزم اور آئندہ نہ کرنے کے پختہ ارادے کی توبہ۔ قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ توبہ کے بے شمار کھلے دروازوں اور مواقع کے باوجود توبہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں اْس سے مغفرت نہیں مانگتے حالانکہ غَفْور رَحِیم، اللہ بہت معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ توبہ نہ کرنا اور اس آس و اْمید پر بیٹھے رہنا کہ اللہ معاف کر ہی دے گا، درست رویہ نہیں۔ یہ خام خیالی اور حددرجہ جہالت و حماقت ہے کہ انسان گناہ پر گناہ کرتاچلا جائے۔ توبہ و استغفار سے منہ موڑے رکھے اور اللہ پر توقع اور اْمید باندھے کہ وہ توبہ و مغفرت طلبی کے بغیر ہی اس کے گناہ دھو ڈالے گا۔
اہلِ کفر بھی اگر اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں، اللہ و رسولؐ پر ایمان لاکر، حلقہ بگوشِ اسلام ہوجائیں، اپنے ماضی کو بھلا کر گناہوں کی سچے دل کے ساتھ معافی طلب کریں، تو لازماً بخشے جائیں گے، مگر اْن پر لازم ہوگا کہ بقیہ زندگی کو اللہ کے احکام اور شریعت کے قوانین کے مطابق بسر کریں اور سابقہ گناہوں سے محتاط رہیں۔
اہلِ ایمان کو توبہ و مغفرت طلبی کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں یہ دْعا کرتے رہنا چاہیے کہ ’’اے ہمارے ربّ، ہدایت و راستی عطا کرنے کے بعد، دلوں کو ہرقسم کی فکری و عملی کجی، خرابی، ٹیڑھ اور گندگی و آلودگی سے بچاتے رہنا۔ اور اپنی جناب سے ہمیں رحمت سے نوازتے رہنا۔ اے پروردگار! آپ بہت عطا کرنے والے ہیں‘‘۔ (اٰلِ عمرٰن: 8) مغفرت، رحم، کرم، انعام، ہدایت و راستی، سلامتیِ فکر وعمل، ایمان پر استقامت و استقلال اور استحکام، سب عطا فرما۔ آمین