زلمے خلیل زاد پر الزامات اور کواڈ 2

315

امریکا سے یہ خبر آتی رہی ہے کہ افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد مستعفی ہو رہے ہیں لیکن 18 اکتوبر کی شام یہ پتا چلا کہ وہ اپنا دفتر بھی خالی کر چکے ہیں اور اب ان کے نائب تھامس ویسٹ ان کا عہدہ سنبھالیں گے۔ خلیل زاد اس عہدے پر گزشتہ تین برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے فائز تھے، جنہوں نے ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کی انتظامیہ میں کام کیا۔ قبل ازیں اسی ماہ ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات اور امریکی وفد کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی وفد میں زلمے خلیل زاد موجود نہیں تھے۔ ایک ایسے وقت میں افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد مستعفی ہوئے جب روس میں افغان امن مذاکرات ہو رہے ہیں جس میں امریکا، چین، روس پاکستان اور بھارت نے شرکت کرنا تھی۔ اس اجلاس میں طالبان کو بھی خصوصی حیثیت حاصل ہو گی جس کی وجہ یہ ہے روس نے اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن روس نے طالبان کو شرکت کے لیے جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس میں طالبان کے بجائے ’’حکومت ِ افغانستان کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں‘‘ اس کانفرنس میں امریکا شرکت نہیں کر رہا ہے جس کی کوئی وجہ بتائی گئی امریکا مشرقی ایشیا میں مکمل طور پر غائب نظر آرہا ہے امریکا کو اب مشرقی ایشیا کے بجائے مغربی ایشیا میں زیادہ دلچسپی جس میں مشرقِ وسطیٰ سرِ فہرست ہے اسی مقصد کے لیے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اسرائیل پہنچے جہاں ’’ٹرمپ ابراہم ایکارڈ‘‘ کی پہلی سالگرہ منائی گئی۔ جس میں بھارت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا نے شرکت کی جس سے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی مواصلاتی خطاب کیا اور ایک میں نئی تنظیم کواڈ2 تشکیل دی گئی۔ نئی تنظیم کواڈ2 کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک تجارتی تنظیم ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ: ’’خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد کو امریکی حکومت نے ایک ایسے وقت میں رخصت کیا جب امریکی سینیٹ کی جانب سے بنائی گئی محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے افغانستان سے امریکا کے انخلا کی تحقیقات بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے‘‘۔
امریکا میں ان دنوں زلمے خلیل زاد پر شدید نکتہ چینی بھی ہوئی کہ انہیں ٹرمپ کی صدارت کے دوران شروع ہونے والے امن مذاکرات میں طالبان پر جس قدر دباؤ ڈالنا چاہیے تھا اتنا دباؤ نہیں ڈالا۔ لیکن امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ان کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا، امریکی عوام کے لیے ان کی کئی دہائیوں پر محیط خدمات کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ زلمے خلیل زاد کئی برسوں افغانستان اور اقوام متحدہ کے لیے امریکا کے سفیر رہے۔ اس ماہ کے اوائل میں انخلا کے بعد پہلی بار امریکی حکام نے دوحا میں طالبان قیادت سے بات چیت کی تھی اور اس بات چیت میں بھی خلیل زاد کو نہیں شامل کیا گیا تھا۔ اب انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔
سابق امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں کہا کہ زلمے خلیل زاد حالیہ برسوں میں ہونے والی واشنگٹن کی ایک
بڑی سفارتی ناکامی کا عوامی چہرہ بن چکے ہیں۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے کانگریس کے نام اپنے ایک مکتوب میں انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان سے افراتفری پر مبنی امریکی انخلا کے بارے میں تفتیش کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ محکمے کی قائم مقام انسپکٹر جنرل ڈیانا شا کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اس جائزے میں امیگرنٹ ویزا کے خصوصی پروگرام، افغانوں کو امریکا میں پناہ گزین کا درجہ دینے اور ان کی آبادکاری کے ساتھ ہی کابل کے امریکی سفارت خانے سے ہنگامی انخلا جیسے موضوعات شامل ہیں۔ گزشتہ اگست میں جب طالبان نے امریکا کی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تو کسی کو گمان بھی نہیں تھا کہ صدر اشرف غنی کی حکومت تاش کے پتوں سے بھی کم وقت میں بکھر کر رہ جائے گی۔ طالبان نے بڑی سرعت سے کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ امریکا میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی نے جس انداز سے افغانستان سے انخلا ہوا اور بیس برس کی فوجی کارروائیوں کے بعد جس طرح پورا نظام آناً فاناً تباہ ہو گیا، اس حوالے سے بائیڈن انتظامیہ پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔
امریکی وزات خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 18اکتوبر کو کہا کہ افغانستان سے متعلق اس ہفتے ماسکو میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی بات چیت میں امریکا بعض لاجسٹک وجوہات کے سبب شامل نہیں ہوگا۔ ماسکو میں یہ بات چیت بیس اکتوبر ختم ہوگئی ہے۔ اس میں چین، پاکستان، بھارت اور طالبان سمیت روس کے حکام بھی حصہ لے رہے ہیں۔ روسی سفیر ضمیر قبولوف کا تاس نیوز کوکہنا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات پر ایک مشترکہ موقف اختیار کرنا ہے۔ تاہم امریکی ترجمان کا اے ایف پی کو کہنا تھا کہ، ’’ہم ماسکو مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ دیگر فریقین پر مشتمل سہ فریقی بات چیت موثر ہے، اور یہ تعمیری فورم ہے۔ ہم اس فورم میں آگے بڑھنے کے منتظر ہیں، لیکن ہم اس ہفتے حصہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اس طرح کی بات چیت موثر ثابت ہوئی ہے، لیکن ہمارے لیے اس میں حصہ لینا کافی مشکل ہے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکا اس عمل کا حامی ہے تو انہوں نے کہا، جی امریکا اس طرح کے مذاکرات کی حمایت کرتاہے۔
افغانستان میں مقامی اور خاص طور پر مشرقی افغانستان میں گوریلا جنگجوؤں کے گروہوں نے امریکا کی حمایت سے سوویت یونین کے خلاف برسوں تک علم بغاوت بلند کیے رکھا۔ امریکا نے انہیں اسلحہ اور پیسہ فراہم کیا تاکہ اس کے دشمن سوویت یونین کے منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اگر ہم خفیہ دستاویزات، صحافیوں کی تحقیقات اور اس دور کے خصوصی لوگوں کے انٹرویوز کو دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکا سوویت یونین کو اس دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا جہاں اسے جان و مال کا اتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے جتنا کئی سال پہلے امریکا کو خود ویتنام میں اٹھا پڑا تھا۔ سوویت فوجیوں کا انخلا شروع ہونے کے صرف آٹھ سال بعد 1996 میں طالبان نے کابل پر فتح حاصل کر لی اور افغانستان پر اسلامی حکومت بنائی جسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فتح میں امریکا کا کوئی کردار تھا؟ افغان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے امریکا اور دوسرے کئی ممالک نے ہتھیار فراہم کیے لیکن 2001ء میں طالبان مکمل طور سے آزاد تھے اور یہ جنگ امریکا سمیت دنیا بھر کے لیے حیران کن تھی جس نے امریکا کو مشرقی ایشیا سے مکمل طور سے آؤٹ کر دیا۔ امریکا آج بھی یہی سوچ رہا ہے وہ آج بھی دنیا کا سُپر ہے لیکن ایشیا میں اب کواڈ 1 اور 2 سے امریکا کو تباہی کے سوا اور کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے لیکن امریکا یہ باتیں اس وقت سمجھے گا کس وقت اس وقت جب اس کے ہاتھوں سے نکل جا ئے گا۔