مہنگائی کے خلاف احتجاج

184

مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف سیاسی جماعتوں نے تحریک شروع کردی ہے، حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد نے سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ یہ واحد مسئلہ ہے جس کی وجہ سے حکومت دبائو میں ہے۔ حکومت نے بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے جتنے بھی اقدامات کیے تھے وہ ناکام ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں لاک ڈائون کے مسئلے پر وزیراعظم عمران خان غریبوں اور روزانہ مزدوری کرنے والوں کے سب سے بڑے ہمدرد بن کر سامنے آئے تھے، مگر ان کی حکومت کی پالیسیوں نے غریب طبقات کے ساتھ متوسط طبقے کی چیخیں بھی نکال دی ہیں۔ حکومت کرتے ہوئے تین برس ہوگئے ہیں لیکن وہ ابھی تک اپنی اقتصادی ٹیم ہی نہیں بناسکے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف ایک ہی راستہ ان کو نظر آتا ہے کہ چند اشیا پر زرتلافی دے کے مصنوعی انداز میں قابو پایا جائے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت ایک اجلاس میں کم آمدنی والے افراد کو مہنگائی سے بچانے کے لیے ’’ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام‘‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں بنیادی اشیائے ضرورت کی خریداری پر رعایت ملے گی۔ وزیراعظم نے موٹر سائیکل اور رکشے کے لیے سستے پٹرول کی فراہمی کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے۔ ایسے اقدامات سے بھی عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں اس کا علاج اتنا آسان نہیں ہے۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یہ فریضہ اسٹیٹ بینک کا ہے کہ وہ روپے کی قدر کی حفاظت کرے لیکن ان کی حکومت نے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے ملازم کے حوالے کرکے پاکستان کی اقتصادی و معاشی سلامتی کا سودا بھی کرلیا ہے۔ محض نعرے بازی سے حالات نہیں بدل سکتے۔ فوجی حکومت سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا تجربہ کرلیا گیا ہے، وہ ناکام ہے، ایک بڑی انقلابی پروگرام کے بغیر اب بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی واقع نہیں ہوسکتی، قیمتوں کا ذرائع آمدنی سے گہرا تعلق ہے عام آدمی کے لیے ذرائع آمدنی بھی مسدود ہوگئے ہیں۔