نکال دو……………اقبال

45

لا کر بَرہمنوں کو سیاست کے پیچ میں
زْناّریوں کو دَیرِ کْہن سے نکال دو

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رْوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو