ترکی نے موساد کے 15 جاسوس پکڑلیے

174

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے 15 جاسوس گرفتار کر لیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق صہیونی جاسوسوں پر الزام ہے کہ انہوں نے موساد کو ترک شہریوں اور ملک میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان نے ان طلبہ کے بارے میں معلومات فراہم کیں ، جو ممکنہ طور پر مستقبل میں دفاعی شعبے میں کام کریں گے۔ مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا آپریشن نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے ایک سال سے جاری انسداد انٹیلی جنس آپریشن کے بعد کیا تھا۔ اس دوران ملزمان کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کی گئی۔ ترک انٹیلی جنس نے آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک سال کا صبر آزما وقت گزارا۔ اس عرصے کے دوران اسرائیلی جاسوسوں کی انتہائی خفیہ طور پر نگرانی کی گئی ۔ ان کے متعلق تفصیلی معلومات جمع کیں اور پھر تمام ثبوت و شواہد اکھٹے کرنے کے بعد کارروائی کی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موساد کے جاسوسوں کا زیادہ تر ہدف ان ممالک کے طلبہ تھے جو اسرائیل مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ موساد کے فیلڈ افسر سے بیرون ملک ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا اور پھر تمام معلومات تل ابیب حکومت کو فراہم کی جاتی تھیں۔یاد رہے کہ ترکی کا شمار ان مسلمان ممالک میں ہوتا ہے جن کے پہلے سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں،تاہم صہیونی حکومت کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے خلاف تُرک صدر رجب طیب اردوان ایک مضبوط کردار بن کر ابھرے اور انہوں نے ہر فورم پر کھل کر اسرائیلی اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔ انہوں نے کئی بار اپنے ہم منصبوں اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی اور تل ابیب حکومت سے مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے برعکس گزشتہ برس 3مسلمان ممالک نے اسرائیل کے ساتھ روابط استوار کیے،جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش شامل ہیں، تاہم ان کی جانب سے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھڑا گھونپنے کے سوا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ تجارتی روابط بڑھتے جارہے ہیں اور صہیونی حکومت ان رقوم کو آبادکاری کے لیے استعمال کررہی ہے۔