خلا بازوں کے خلیوں میں ضرر رساں تبدیلی کا انکشاف

282

سائنسدان پہلے ہی جانتے تھے کہ تابکاری کی نمائش اور کشش ثقل کی کمی خلا بازوں کے جسموں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ لیکن نئی تحقیق مزید انکشافات کرتی ہے۔

اس تحقیق میں مائٹوکونڈریا شامل ہے جسے انسانی خلیے کا پاور ہاؤس کہا جاتا ہے کیونکہ خلیوں کے اندر یہ چھوٹے اجسام توانائی پیدا کرتے ہیں۔

مائٹوکونڈریا کا اپنا ڈی این اے ہوتا ہے اور جب وہ تناؤ یا دیگر نقصانات سے گزرتے ہیں تو وہ ڈی این اے خون میں خارج ہوجاتا ہے اور خلوی نقصان اور جسم میں دیگر دیگر مسائل کا سبب بنتا ہے۔

جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں بدھ کو شائع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین نے ناسا کے 14 خلابازوں کے خون کے نمونوں کی جانچ کی جنہوں نے 1998 سے 2001 کے درمیان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 5سے 13 دن گزارے۔

تمام 14 خلابازوں نے لینڈنگ کے دن اور تین دن بعد تک خون میں آزاد گھوم رہے مائٹوکونڈریل ڈی این اے کی سطح میں حددرجہ اضافہ دیکھا ، جو کہ خلائی سفر سے پہلے کی تعداد سے 355 گنا زیادہ تھا۔

مطالعے کے سینئر مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ گوکاسین نے کہا کہ اس وسیع رینج سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اضافی سطح ممکنہ طور پر نقصان دہ ہے کیونکہ مائٹوکونڈریل ڈی این اے سوزش کا باعث بنتا ہے بالخصوص جب یہ باقی جسم میں پھیل جائے۔