“ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو جاتا تو آج ہم آئی ایم ایف کے غلام نہ ہوتے”

170

لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ  74 سالوں میں اگر اسلامی نظام نافذہو جاتا توآج ہم آئی ایم ایف کے غلام نہ ہوتے، تین سالوں میں حکومت نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جو مدینہ کی اسلامی ریاست کے مطابق ہو۔

سراج الحق نے کہا کہ ملکی ترقی کی ضمانت نظام مصطفیٰ کے نفاذ میں ہے، پینڈورا پیپرز پرسپریم کورٹ جائینگے، مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف عوام کا مقدمہ چوکوں اورچوراہوںمیں لڑیں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ بے روزگار نوجوانوں سے کہتا ہوں ملک چھوڑنے یا مایوس ہونے کی بجائے آگے بڑھیں اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں، 31 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد کی طرف ایک زبردست یوتھ مارچ ہوگا۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ  ملک میں جھوٹ، سود اور کرپشن کا نظام ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرنے والوں نے پہلے سے برسرروزگار افراد کو بھی گھر بھیج دیا، لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں اٹھائے نوکریوں کی تلاش میں گھوم رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز، انجینئرز، اور اسکلڈ لیبر بیرون ملک شفٹ ہو رہی، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق شرح بے روزگاری 6 فیصد، آزاد ماہرین 12سے 14فیصد بتا رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں خودکشی، ڈپریشن بڑھ رہا ہے اور سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزیراعظم خود تسلیم کرتے ہیں کہ 70 لاکھ نوجوان نشے کے عادی ہو گئے۔ انڈوں، مرغیوں اور کٹے پالنے کے نعروں سے ملک ترقی نہیں کرتے۔ پچاس ہزار گھروں کا وعدہ کرکے آج تک ہزار بھی نہ بنا سکے۔