بینک منیجر غلط بیانی کر کے انشورنس پالیسی فروخت کررہے ہیں،وفاقی محتسب

124
حیدرآبادـ:وفاقی انشورنس محتسب محمد خاور جمیل ریجنل دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) وفاقی انشورنس محتسب ڈاکٹر محمد خاور جمیل نے کہا ہے کہ وفاقی انشورنس محتسب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے،سندھ میں انشورنس کمپنیوں کے خلاف بہت سی شکایات موصول ہورہی تھی،ہم نے اس سال 100 فیصد شکایات کا ازالہ کیااور 2.13 بلین روپے کا ریلیف لوگوں کو فراہم کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں وفاقی انشورنس محتسب کے ریجنل دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پروفاقی انشورنس محتسب کے کنسلٹنٹ حیدرآبادمعتصم عباسی، ایڈیشنل کمشنرون حیدرآباد سید سجاد حیدر، ایڈیشنل کمشنرحیدرآباد طاہر علی میمن، ڈپٹی ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ثنا ا للہ رند، ایڈیشنل ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ راشد عباسی، سماجی و مذہبی ہنماء حاجی گلشن الہٰی و دیگر موجود تھے۔ وفاقی انشورنس محتسب ڈاکٹر محمد خاور جمیل نے کہا کہ بینک منیجرزغلط بیانی کرکے براہ راست انشورنس پالیسی بیچ رہے ہیں،بینک منیجر کو معلوم ہوتا ہے کہ بینک میں لوگوں کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہے اس طرح سے وہ لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ 2،3 سال میں آپ کے دگنے ہوجائیں گے آپ پالیسی لیں جبک کچھ عرصہ بعد ان کا خود کسی اور جگہ تبادلہ ہوجاتا ہے اور جس رقم کا وعدہ کیاجاتا ہے وہ رقم انشورنس کنند گان کو نہیں دی جاتی جس کے ازالے کے لیے وفاقی انشورنس محتسب متحرک کردار اد ا کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسٹیٹ بینک سے کچھ پالیسی مرتب کرنے کا کہاہے تاکہ عوام کو انشورنس کے حوالے سے ریلیف فراہم کیا جاسکے اور انشورنس پالیسی کو غلط انداز سے بیچنے کی روک تھام کی جائے، بینک منیجرکا کام انشورنس پالیسی بیچنا نہیں ہوتا ہے اس کے لیے بزنس سیل آفیسر ہوتا ہے اس طرح کی 70 سے 80 فیصد شکایات موصول ہوئیں ہیں اور ہماری یہ کوشش ہے کہ عوام کو 60روز میں انصاف فراہم کیا جائے،جو لوگ پہلے انشورنس پالیسی کے خلاف اپیل پر جاتے تھے اب ہم انہیں ثالثی کا کردار اد ا کرتے ہوئے فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کرمعاملہ طے کرتے ہیں جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس ضمن میں جتنی بھی شکایات تھیں تمام کا ازالہ ممکن ہوا ۔