ٹی ایل پی سے مذاکرات کیے جائیں‘ مفتی منیب الرحمن

68

کراچی(نمائندہ جسارت)معروف عالم دین اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ فیصلہ سازوں کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کریں اور اس مسئلے کا پرامن حل نکالیں‘ ملک پہلے ہی داخلی اور خارجی طور پر بے پناہ مشکلات کا شکار ہے‘ ایسے میں معمولی سی بے تدبیری منفی نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ بدھ کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ وفاقی وزیر مذہبی امور، وزیر داخلہ اور گورنر پنجاب نے ر مضان المبارک کی صبح صادق کو میڈیا کے سامنے تحریری دستخط شدہ معاہدے کا اعلان کیا‘ اس وقت ان کا دھرنا ختم ہوا اور پھر حکومت نے معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی‘ان کے وزرا جھوٹے ثابت ہوئے‘ پولس انتقام پر اتر آئی اور تحریک لبیک کے رہنما اب تک جیلوں میں ہیں‘ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ علامہ پیر سید محمد ضیا الحق اور ان کے صاحبزادگان اور متعدد علما کو شیڈولIV میں رکھا گیا ہے‘ کیا ان سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ 6 ماہ انتظار کے بعد ان کے کارکن پھر دھرنا دیے بیٹھے ہیں‘ مقامِ حیرت ہے کہ وزیر اعظم کے بقول تحریک طالبانِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور وفادارانِ پاکستان کو جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ مکالمے جیلوں میں نہیں ہوتے‘تحریک لبیک پاکستان کی محبوس قیادت کو کسی ریسٹ ہائوس میں یکجا کر کے وقار اور احترام کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔