نیب کو خورشید شاہ کی گرفتاری کا بنیادی مواد پیش کرنے کا حکم

163

اسلام آباد(صباح نیوز)عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج جسٹس عمر عطا بندیا ل کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کی ضمانت بعد ازگرفتاری کیس کی سماعت (آج)جمعرات تک ملتوی کردی ۔عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نثار محمد اعوان کی کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعامستردکردی جب کہ عدالت نے نیب کو (آج)جمعرات کو خورشید شاہ کی گرفتاری کے حوالے سے بنیادی مواد اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کی تفصیلات کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہا ہے کہ(آج)جمعرات کو دیکھیں گے کہ چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کی جانب سے خورشید شاہ کے شریک ملزمان ضمانت منسوخی کے لیے دائر درخواستیں ، خورشیدشاہ کی ضمانت کے کیس کے ساتھ سننی ہیں یا الگ سننی ہیں۔ بدھ کے روز عدالت عظمیٰ میں سید خورشید احمد شاہ کی کرپشن کے ذریعے آمدن سے زاید اثاثے بنانے کے کیس میں درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر سماعت ہوئی۔دوران سماعت خورشید شاہ کے وکیل سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر جنرل نثار محمد اعوان پیش ہوئے۔ جبکہ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سندھ سیداویس قادر شاہ، خورشید شاہ کے صاحبزداے سید زیرک خورشید شاہ، سید خالد حسین شاہ، محمد اکرم خان، عبدالرزاق بحرانی،رحیم بخش،نثار احمد پٹھان اور دیگر ملزمان اپنے وکلا سابق اٹارنی جنرل منیر احمد ملک، سینیٹرفاروق حمید نائیک،سید قلب حسن ایڈووکیٹ، مکیش کمار جی کرارا سمیت دیگر وکلا پیش ہوئے۔دوران سماعت پیپلز پارٹی رہنما قمر زمان کائرہ، سید نیئر حسین بخاری اور زمرد خان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر خورشید شاہ کی دونوں بیگمات کو کیس کے فیصلے تک عدالتی حاضری سے استثنا دے دیا تھا۔ خورشید شاہ کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک گھنٹے سے زاید دلائل دیے۔مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کے خلاف پہلی مرتبہ 1999ء میں نیب کی جانب سے مقدمہ بنایا گیا اور یہ مقدمہ 2001ء سے2008ء تک چلتا رہا اور اس میں خورشید شاہ کو بری کردیا گیا، بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمہ ختم کردیا گیا۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ اور دیگر حصہ داروں نے 30 اگست 2008ء کو گوثر جی نیو سکھر میں 34لاکھ روپے کی مالیت سے55ایکڑ زمین خریدی، اس زمین میں خورشید شاہ کا حصہ 20فیصد تھا۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ55ایکڑ زمین2008ء میں صرف34لاکھ روپے میں خریدی گئی۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ یہ زمین افتخار احمد سومرو نامی شخص سے خریدی گئی تھی اور اسے5پے آرڈرز کے ذریعے رقم کی ادائیگی کی گئی تھی، 5 پے آرڈرز مووجد ہیں اور یہ کلیکٹر کے نوٹیفیکیشن کے ریکارڈ پر بھی موجود ہیں۔