یمنی تنازع میں 10 ہزار بچے جاں بحق یا اپاہج

104

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے یمن کے بارے میں رپورٹ میں بتایا ہے کہ مارچ 2015ء سے سعودی عرب کی حامی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے تنازع میں اب تک 10ہزارسے زائد بچے ہلاک یا اپاہج ہو چکے ہیں۔ جنیوا سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں یونیسف نے صورت حال کو ایک شرمناک سنگ میل قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب سے لڑائی کا آغاز ہوا ہے ہر روز اوسطاً چار بچے ہلاک یا اپاہج ہوتے ہیں۔ یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا ہے کہ اس تازہ ترین فہرست میں صرف وہ کیس درج ہیں، جن کی اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے معاملات ریکارڈ پر نہیں لائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی تعداد تو ہے، لیکن لڑائی کے علاوہ بچوں کی کئی ہلاکتیں بالواسطہ اسباب کی بنا پر بھی واقع ہوتی ہیں، ان اسباب کا سد باب ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیضہ اور خسرہ کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذائیت کا فقدان اور بھوک کی وجہ سے بھی بیماریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے کے خدشات لاحق رہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہر 10 منٹ میں یمن کا ایک بچہ ہلاک ہوتا ہے جس کا علاج کیا جاسکتا تھا۔ اور بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں سے اتنی بڑی ہلاکتوں سے بچنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔ بچوں کے لیے یمن ایک مشکل ترین ملک ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس سلسلے میں صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ ایلڈر کچھ ہی روز قبل یمن کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو کئی قسم کے خطرات جھیلنے پڑتے ہیں۔ بقول ان کے 5 میں سے 4 بچے، یا یوں کہیے کہ ایک کروڑ 10لاکھ بچوں کو انسانی بنیادوں پر اعانت کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ 4 لاکھ بچوں کو غذائیت کے شدید فقدان اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔