شمالی کوریا کا نئی قسم کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ

216
شمالی کوریا: سمندر سے داغا گیا میزائل ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے‘ چھوٹی تصویر زیراستعمال قدیم آبدوز کی ہے

پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے سمندر سے ایک جدید اور مختصر مار کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جب کہ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد جلد از جلد کار آمد آبدوز میزائل کے شعبے میں داخل ہونا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز مطابق یہ بیان جنوبی کوریا کی فوجی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔ ان کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا نے اس کے مشرقی سمندری حدود میں بیلسٹک میزائل داغا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربات کے سلسلے میں تازہ ترین میں سے ایک تھا۔وائٹ ہاؤس نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مزید اشتعال انگیزی سے پرہیز کرے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکا اسلحہ کے منصوبے پر اب بھی شمالی کوریا سے سفارتی گفتگو کے لیے تیار ہے۔پیانگ یانگ کی جانب سے امریکا اور جنوبی کوریا کی سفارتی گفتگو کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ وہ خود اپنی فوجی سرگرمیوں سے تنازعات بڑھا رہے ہیں۔ دوسری جانب سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے واقعی ایک آبدوز سے بیلسٹک میزائل داغا ہے تو اسلحہ سازی کے حوالے سے یہ شمالی کوریا کے لیے ایک بڑی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی ناکامی ہے۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا کے پاس قدیم آبدوز کا ایک بڑا بیڑا موجود ہے، لیکن ابھی تک کارآمد بیلسٹک میزائل تجربے کے لیے استعمال کی جانے والی ایکسپریمنٹل گوائی کلاس بوٹ کے آگے نصب نہیں کیے گئے ہیں۔ کے سی این اے کی جانب سے شائع کی گئی تصاویر میں شمالی کوریا کے سابقہ ڈیزائن کے مقابلے میں پتلا اور چھوٹا میزائل دیکھا گیا اور یہ ممکنہ طور پر پیانگ یانگ میں منعقدہ دفاعی نمایش میں پہلی بار دکھائے جانے والا ماڈل ہوسکتا ہے۔