روس امن کی راہ میں رکاوٹ ہے‘ امریکی وزیر دفاع

163
کیف: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور یوکرائنی ہم منصب فوجیوں کی یادگار پر پھول رکھنے جارہے ہیں

کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ روس مشرقی یوکرائن میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یوکرائن کے دورے کے موقع پر انہوں نے روس پر سخت نکتہ چینی کی۔ آسٹن نے کہا کہ ماسکو کے دباؤ پر یوکرائن کے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کی درخواست کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ آسٹن نے یوکرائنی ہم منصب آندریے ٹاران کے ساتھ ملاقات کے دوران کریملن سے مطالبہ کیا کہ وہ کریمیا پر اپنا قبضہ ختم کرکے مشرقی یوکرائن میں جنگ کو روک دے اور بحیرہ اسود اور یوکرائن کے سرحد ی علاقوں میں کارروائیاں بند کرے۔ واضح رہے کہ 2ماہ کے دوران آسٹن کا یوکرائن کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکا رومانیااور جارجیا سمیت بحیرئہ اسود کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، تاکہ خطے میں روس کے اثرات کا مقابلہ کر سکے۔ ادھر ماسکو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرائن امن مساعی کی راہ میں حائل ہے۔ وہ مشرقی یوکرائن میں اپنی افواج کی موجودگی سے بھی انکار کرتا ہے۔ کریمیا کے روس کے ساتھ انضمام کے بعد 2014 ء سے ہی یوکرائن روسی حمایت یافتہ علاحدگی پسندوں کے ساتھ تصادم میں مصروف ہے۔ رواں برس حالات کشیدہ ہونے کے بعد روس نے یوکرائن کے قریب سرحد پر اپنی فوجیں تعینات اور فوجی سازوسامان نصب کردیے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد کیف حکام نے نیٹو کے رکن ممالک سے اپیل کی تھی کہ اسے دفاعی بلاک میں شامل کرنے کے اقدامات تیز کیے جائیں۔