کلین اینڈ گرین منصوبہ مافیا کی نذر۔۔۔ مگر کیوں

196

ملک میں وزیراعظم عمران خان حکومت کے جاری منصوبوں میں کلین اینڈ گرین کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا اسلام آباد میں اس منصوبہ کی افتتاحی تقریب میں خود وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھ وفاقی وزیر سرتاج گل سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی کو وزیراعظم نے خود جو احکامات دیے کہ اس منصوبے کو ہر حال میں کامیاب بنانا ہے ان احکامات کو سی ڈی اے کے چیئرمین سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے انتہائی غیر سنجیدہ لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے ٹیکسوں سے شروع ہونے والا کلین اینڈ گرین منصوبہ اپنی موت آپ ہی مرگیا یہاں بات بیوروکریسی کی نااہلی کی کی جائے یا ان کی بدنیتی کی تو حالات و واقعات کے شواہد میں دونوں باتیں درست ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز اسلام آباد کے نواحی علاقہ مل پور سے کیا گیا تھا جہاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری احکامات کے تحت قبضہ مافیا سے سرکار کی زمین واگزار کرائی گی تھی وہیں پر قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ کرکے کلین اینڈ گرین منصوبے کا افتتاح وزیراعظم سے کروایا گیا اس کے بعد جو اس منصوبے کے ساتھ ہوا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ اسے تحریر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے جہاں ملک کے سب سے بڑے منصف عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے باقاعدہ قانونی سماعت کے بعد تمام سرکاری اداروں کو یہ ہدایات جاری کیں کہ قبضہ مافیا سے سرکاری زمینوں کو مکمل طورپر واگزار کرایا جائے مل پور اسلام آباد کے نواح میں واقع ایک ایسی آبادی ہے جس کے جغرافیہ سے ہر کوئی واقف ہے وفاقی دارالحکومت کے بیچوں بیچ اگر وزیراعظم کے افتتاحی منصوبے کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ ہوسکتا ہے تو اس سے آگے سوچنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے یہاں پر چیئرمین سی ڈی اے اور کمشنر اسلام آباد عامر احمد کی کارکردگی کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے کس خوبصورتی کے ساتھ کلین اینڈ گرین منصوبے کو ناصرف اپنی نالائقی کی بھینٹ چڑھایا بلکہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق جب ان سے اس بابت دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ کلین اینڈ گرین منصوبے کے تحت لگائے جانے والے پودے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب خراب ہوئے ہیں اب ان کی جگہ نئے پودے لگا کر ان کی مکمل طور پر دیکھ بھال کی جائے گی۔
سول بیوروکریسی کی جانب سے اس طرح کا رویہ حقیقت میں یہ ان کی کارکردگی پر نہ صرف سوالیہ نشان ہے بلکہ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے افسران ملک وقوم اور جن اداروں کی ذمے داری انہیں سونپی جاتی ہے اس سے کہاں تک مخلص ہیں بات یہیں پر نہیں رکتی جڑواں شہر میں واقع راول ڈیم کے اردگرد سیکڑوں کنال سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا عرصہ سے براجمان ہے ان میں سے بعض قبضہ مافیا ہمیشہ حکمران جماعتوں میں شمولیت اختیار کرکے ان سرکاری زمینوں پر اپنے قبضے کو تاحال برقرار رکھے ہوئے ہیں ان میں سے بعض تو ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن حتیٰ کہ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں بھی ان کے نظریاتی حامی رہے ہیں اب یہی قبضہ مافیا تحریک انصاف کا ہراول دستہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ راول ڈیم کرگرد ونواح سے لے کر بنی گالہ تک یہ قبضہ مافیا انتہائی مضبوط ہوچکا ہے اس مافیا کے یہاں پر شادی ہال سے لے کر دیگر کئی مختلف منصوبے جاری ہیں جو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں مگر تحریک انصاف کا سیاسی ہراول دستہ ہونے کی بنا پر ان کیخلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی بلکہ اس قبضہ مافیا نے راول ڈیم کا جو حشر کردیا ہے اگر اس کی آزادانہ تحقیقات ہوں تو اس میں سی ڈی اے سمیت دیگر سرکاری محکموں کیے سربراہان بھی ملوث پائے جائیں گے کیونکر سی ڈی اے کی اشیر باد کے بغیر وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمینوں پر اس طرح قبضہ کرنا ممکن نہیں یہی نہیں بلکہ اس مافیا نے سرکاری زمینوں کے ریکارڈ تک میں رسائی حاصل کر لی ہوئی ہے اسی طرح جڑواں شہر کا تاریخی راول ڈیم جو راول پنڈی کے شہریوں کے لیے پینے کے صاف پانی مہیا کرنے کا ایک اہم ذریعہ تھا اسے اس مافیا کی جانب سے عرصہ دراز سے زہریلا کیا جارہا ہے کیونکہ راول ڈیم کے اردگرد اس قبضہ مافیا کی ناجائز تعمیرات کا تمام فضلہ راول ڈیم کی نظر ہورہا ہے۔ اس بابت ماضی قریب میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ عدالت عظمیٰ کے متعدد ججوں سمیت چیف جسٹس صاحبان بھی نوٹس لے چکے ہیں ڈیم کے پانی کو آلودہ کرنے سے متعلق کیس ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں زیرسماعت ہونے کے باوجود بھی یہ مافیا اسی طرح سرگرم عمل ہے پوری دنیا میں پینے کا پانی صاف رکھنے کے لیے اس طرح کے ڈیموں کو قدرتی طریقہ کار کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ موثر اور کامیاب طریقہ ان ڈیموں میں مچھلی کی پیداوار کرکے ڈیموں میں آنے والی غلاظت کو روکا جاتا ہے مچھلی چونکہ ایک قدرتی فلٹریشن کا کام کرتی ہے لہٰذا ماضی قریب میں راول ڈیم میں بھی مچھلی کی فارمنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا مگر صد افسوس کہ یہاں پر بھی یہی قبضہ مافیا سرگرم رہا اپنے اثرو رسوخ کے ذریعے سرکاری حکام کے ساتھ ساز باز کرکے اس مافیا نے نہ صرف مچھلی کا سرکاری ٹھیکہ کینسل کروایا جس سے محکمہ فشریز کو بھی ٹھیکے کی مد میں ملنے والی بھاری رقم سے نہ صرف محروم ہونا پڑا بلکہ اب یہ مافیا اپنی مرضی سے ڈیم سے مچھلی چوری کرکے سرعام فروخت کرتا پھر رہا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کو کیا اس کا علم نہیں کہ ڈیم سے مچھلی چوری ہورہی ہے جبکہ یہی مچھلی ڈیم کے پانی کو فلٹر کرنے کا ایک واحد ذریعہ ہے راول پنڈی کے عام شہریوں سمیت کنٹونمنٹ میں بھی رہائش پزیر اب یہی گندہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں یہی وجہ ہے کہ ملک کے انتہائی اہم شہر جو وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہو اسے اس پانی کی بدولت ہیپا ٹائٹس سمیت جگر اور گردوں کی بے شمار بیماریوں کا سامنا ہے مگر چونکہ مافیا طاقتور ہے اسی لیے وزیر اعظم اور عدلیہ سمیت دیگر اہم اداروں کو جھوٹ پر مبنی رپورٹ ارسال کردی جاتی ہے جس میں سب اچھا لکھا جاتا ہے میری ایک عام شہری اور صحافی ہونے کی حیثیت سے چیف جسٹس اور کور کمانڈر راول پنڈی سے درخواست ہے کہ وہ کم ازکم ایک ازاد تحقیقاتی کمیشن بنائیں جو بنی گالہ اور راول ڈیم کے تمام علاقوں کی جیو فینسنگ کرکے سروے آف پاکستان کی خدمات حاصل کریں بلکہ اس تمام علاقے کی سٹیلائٹ امیجنگ بھی کی جائے جسے بعد ازاں سی ڈی اے کے ریکارڈ سے چیک کیا جائے تو سب کچھ سامنے آجائے گا اسی طرح راول ڈیم کے تمام معاملات کا کنٹرول بھی اسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد نئے سرے سے کیا جائے تاکہ نہ صرف راول ڈیم اپنی اصلی حالت میں برقراررہ سکے بلکہ جڑواں شہروں کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی ہمہ وقت مہیا ہوسکے اسی طرح محکمہ فشریزی کو بھی دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ ڈیم کے پانی کو قدرتی طریقہ کار کے تحت صاف رکھنے کے لیے مچھلی کی پیدوار کو یقینی بنایا جائے۔