…!!ہم نے ڈاکٹر عبدلقدیرکو کیا دیا

340

معروف صحافی سہیل وڑائچ نے ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر سے پوچھا کہ آپ کو کبھی کوئی پچھتاوا ہوا ہے، انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ہوا ہے کہ اپنے ملک آکر قوم کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا فیصلہ۔ میں نے ان کے کئی انٹرویو پڑھے اور دیکھے بھی جس میں انہوں نے والہانہ انداز میں پاکستان سے عشق کا اظہار کیا ہے اور پاکستانی عوام کی مدح سرائی کی ہے۔ دونوں نقطہ نظر اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی محبت میں آئے کہ اضمحلال اور احساس شکست خوردگی میں مبتلا قوم کو ہمت و حوصلوں کی دولت سے لبریز کردیا جائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے ہمیں کیا دیا اور پھر ہم نے ان کو کیا دیا اس کا ایک سیدھا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ایٹم بم کا تحفہ دیا اور اس کے جواب میں ہم نے انہیں نظر بندی کا تحفہ دیا۔ یہ جو لفظ ’’ہم‘‘ ہے اس کی تشریح میں حکمراں طبقہ، سیاستدان اور عوام شامل ہیں۔ اب کیا ان تینوں طبقات نے ڈاکٹر صاحب کی محبت کے جواب میں انہیں ملزم بنا کر دیا نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے اس ملک کے سیاستدانوں اور عوام نے تو ڈاکٹر صاحب کو محسن پاکستان کا خطاب دیا یہ تو اس وقت کا حکمران طبقہ تھا جس نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو ملزم بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کے صاف ستھرے کردار پر الزامات کی گند لا کر ڈال دی۔ بھارت نے اپنے سائنس داں کے ساتھ کیا سلوک کیا اپنے ملک کے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا (ایوارڈ تو بہت سارے حکومت پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی دیے) اس کے بعد انہیں ملک کا صدر بنایا اور جب ان کا انتقال ہوا سرکاری اعزاز کے ساتھ دن کی تدفین ہوئی نریندر مودی سمیت تمام سرکاری لوگ جس میں وزراء بھی شامل تھے ان کی آخری رسوم میں شریک ہوئے ان کی میت کے پاس ہندوستان کے وزیر اعظم مودی نے اپنے عقائد کے مطابق ڈاکٹر عبدالکلام کو سلام پیش کیا، دوسری طرف 10اکتوبر اتوار کی صبح ڈاکٹر عبدالقدیر کا انتقال ہوا شام کو ان تدفین ہوئی صدر اور وزیر اعظم قریب ہی موجود تھے لیکن ان میں سے کوئی ان کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اپوزیشن کی شخصیات بھی نہیں آئیں پی پی پی کے آصف زرداری تو بیمار ہیں بلاول تو آسکتے تھے ن لیگ سے شہباز شریف کو آنا چاہیے تھا اور ان کی پارٹی کو کوئی بڑا لیڈر بھی شریک نہیں ہوا۔ جے یو آئی کے کوئی معروف حضرات بھی نظر نہیں آئے، شدید بارش میں عوام کی بڑی تعداد اپنے محسن کے جنازے میں شریک ہوئی عوام نے تو حق ادا کردیا لیکن ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اسے اپنی قومی تو کیا اخلاقی ذمے داری بھی نہیں سمجھا اخبارات میں ڈاکٹر عبدالقدیرکی بیٹی کا بیان شائع ہوا ہے کہ ہمارے والد کو حکومت کی طرف وہ پروٹوکول نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔
نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس سے قبل پاکستان کے صدر مشرف اس کے قدموں میں پہلے ہی ڈھیر ہو چکے تھے، پاکستان افغانستان کے خلاف امریکا کی ہر طرح کی تذویراتی مدد کررہا تھا اس کے باوجود پاکستان کو مزید دبائو میں لینے کے لیے جھوٹ کا ایک طوفان کھڑا کیا کہ پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر نے ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فروخت کی ہے۔ یہ ایک ایسا لغو اور صریحاً جھوٹ پر مبنی الزام تھا جس کا کوئی سر پیر نہیں۔ ایسا ہی الزام عراق پر بھی لگایا گیا جو بات میں جھوٹ ثابت ہوا۔ ایٹمی ٹیکنالوجی۔ کوئی دال چاول یا پرچون کی چیزوں کی طرح نہیں ہے اس کی اس طرح آزادانہ خرید و فروخت کی جاسکے کہوٹا کا ایٹمی ریسرچ پلانٹ فوج کی حفاظت و نگرانی میں کام کررہا ہے کہ ایک طرح سے فوج اس کی کسٹوڈین ہے مزید حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایران کے اعلیٰ عہدیدار سے یہ بیان بھی دلوایا گیا کہ ہم نے پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔ امریکا نے پرویز مشرف سے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ جس طرح افغانستان کے سربراہ ملا عمر سے کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو ہمارے یعنی امریکا کے حوالے کیا جائے۔ چونکہ اس سے قبل پرویز مشرف افغانستان کے پاکستان میں سفیر عبدالسلام ضعیف کو امریکا کے حوالے کرچکے تھے جبکہ انہیںسفارتی تحفظ بھی حاصل تھا، لیکن ان کو جس شرمناک انداز میں تشدد کرکے امریکا کے حوالے کے گیا وہ سفارتی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ یہ ہمارے اس وقت کے سربراہ پرویز مشرف کا یہ انتہائی گھنائونا کردار ہے کہ امریکا نے جن جن لوگوںکو ان سے مانگا انہوں نے چند ڈالروں کے عوض انہیں امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا اور اس کا اقرار انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ 2004 میں کراچی سے ڈاکٹر عافیہ کو بچوں سمیت پاکستانی ایجنسیوں نے مقامی پولیس کی مددسے اغوا کیا اور امریکا کے حوالے کردیا۔ پتا نہیں کیوں ہمارے یہاں جو بھی برسراقتدار آتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ خناس سوار ہوجاتا ہے کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے اس ملک کا حکمران بن گیا ہے کوئی اسے ہٹانے والا نہیں ہے دوسرے یہ کہ وہ امریکا کو اپنا مائی باپ سمجھنے لگتا ہے کہ جب تک اس کے سر پر امریکا کا ہاتھ ہے کوئی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ روس کے خلاف جہاد میں حصہ لینے کے لیے دنیا بھر سے جو مجاہدین آئے امریکا نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا پھر ان مجاہدین کی اکثریت یہیں کی ہو کر رہ گئی اور یہیں شادی کر کے انہوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا، پھر جب روس شکست کھا کر چلا گیا اور نائن الیون کے بعد یہی مجاہدین امریکا کی نظر میں دہشت گرد بن گئے امریکا ان مجاہدین کی جان کا دشمن ہو گیا، اپنی جان بچانے کی خاطر جو لوگ بھاگ کر پاکستان آئے یہاں کی حکومت نے انہیں پکڑ پکر کر امریکا کے حوالے کیا ان سب کو امریکی ٹارچر سیل گوانتانا موبے پہنچادیا گیا جہاں ان معصوم اور بے قصور لوگوں نے ہولناک اذیتیں برداشت کیں اور ان میں بہت سے لوگ اذیت کو برداشت نہ کرسکے اور اللہ کو پیارے ہو گئے یہ پاکستان جیسی مضبوط حکومت کے سربراہ پرویز مشرف کا کردار تھا
جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ افغانستان جیسی کمزور حکومت کے سربراہ جو طالبان کے امیر بھی تھے یعنی ملا عمر سے جب کہا گیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کر دیں تو انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہیں اور اسلامی روایات کی رو سے اپنے مہمان کو اس کے دشمن کے حوالے نہیں کر سکتے، اور پھر اس کے نتیجے میں انہوں نے 20سال تک امریکا کے خلاف جہاد کیا مجاہدین سرخرو ہوئے اور امریکا کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ یہ تذکرہ ذرا طول پکڑ گیا بتانے کا مقصد یہ تھا کہ پرویز مشرف ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی امریکا کے حوالے کرنے پر تیار ہو گئے تھے وہ تو اس وقت کے وزیر اعظم جمالی مرحوم اللہ ان کی مغفرت فرمائے اڑ گئے اور انہیں جانے نہیں دیا گیا پھر ڈاکٹر صاحب کو کچھ اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا ایک دفعہ سی ڈی اے والے ان کا گھر گرانے آئے ڈاکٹر صاحب نے چودھری شجاعت کو فون کیا جو فوری طور پر وہاں پہنچ گئے اور اس کارروائی کو رکوا دیا، پرویز مشرف کو کچھ ان سے ذاتی مخاصمت بھی تھی ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ جب یہ کرنل تھے کسی مسئلے میں۔ میں نے ان کو ڈانٹ دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ چودھری شجاعت نے ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا ڈاکٹر صاحب پاکستان پر دبائو بہت ہے مشرف نے یہاں پر چودھری برادران سے کام لیا پھر ڈاکٹر صاحب کو مجبوراً ٹی وی پر اپنے ناکردہ قصور کا اعتراف کرکے معافی مانگنا پڑا اور پھر جب سے وہ گھر میں نظر بند تھے اور 10اکتوبر 2021 بروز اتوار کو ان کی نظربندی ختم ہو گئی اور پھر وہ کفن بند ہو گئے ان کے گہوارے کو پاکستانی پرچم سے ڈھانپ دیا گیا اللہ ان کی مغرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
آخر میں ہم ایم کیو ایم کے حوالے کچھ بات کریں گے کہ ایم کیو ایم نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر تین دن کا سوگ منایا لیکن ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے بجائے ایم کیو ایم کے ایک نمائندہ وفد نے ان کے مزار حاضری دی اور میڈیا سے گفتگو کی، جب پرویز مشرف ڈاکٹر صاحب کو اپنے اقتدار کی خاطر پوری دنیا میں رسوا کررہے تھے اس وقت ایم کیو ایم نے کوئی احتجاج نہیں کیا اور کچھ عرصے بعد ایم کیو ایم پرویز مشرف کی گود میں بیٹھ گئی اور شریک اقتدار ہو گئی اور تاریخ میں یہ بات موٹے حرفوں سے لکھی جائے گی کہ جس وقت ایم کیو ایم اقتدار میں تھی ایٹم بم کے اردو اسپیکنگ خالق نظر بند تھے۔