مہنگائی… ناقابل حل مسئلہ …؟

284

پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کی لہر تیز ہوگئی ہے۔ پیر کے روز ڈالر کی قیمت تاریخی بلندی پر پہنچ گئی۔ پیر کے روز ڈالر ایک روپے 59 پیسے مہنگا ہو کر 172 روپے 77 پیسے پر بند ہوا۔ ایک مرحلے پر بینکوں کے درمیان تجارتی تبادلے کے دوران میں ڈالر کی قیمت 173 روپے 20 پیسے پر بھی دیکھی گئی، یہ پاکستان کی تاریخ میں ڈالر کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔ ڈالر کی قیمت میں تیزی کی لہر جاری ہے اور ساتھ ہی واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے وزارت خزانہ کا وفد قرضے کی نئی قسط کے لیے مذاکرات کررہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں جو خبریں آئی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے سابق اور موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو اسی طرح کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے جیسے فیٹف کے کٹہرے میں پہلے سے قید میں ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے جو اب وزیر بھی نہیں رہے ہیں واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی انتظامیہ کو اس بات پر قائل کرلیں گے کہ وہ ہم پر اپنی شرائط عاید نہ کرے، ہم قرضوں کی واپسی کے لیے عوام پر زیادہ بوجھ ڈالے بغیر رقم جمع کرلیں گے۔ لیکن صاف نظر آرہا ہے کہ اب مزید مہلت نہیں ملے گی۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کا حکم ہے کہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرو، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں رعایتیں ختم کرو، اس کی شرح بڑھائو، زرتلافی کا نظام ختم کرو، ساتھ ہی روپے کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی شرح میں اضافے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ شوکت ترین واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے بجلی کے نرخ اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرکے گئے تھے لیکن ان سفاکانہ اور ظالمانہ اقدامات کے باوجود آئی ایم ایف کے رویے میں نرمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے گزشتہ بجٹ بھی اسی دعوے کے ساتھ پیش کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں اور ڈالر کی شرح میں اضافے کے پہلے ہی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اضافے کی لہر کئی عشروں سے جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی آمدنی میں اضافے کے اسباب اور ذرائع بھی پیدا ہوجاتے تھے لیکن وطن عزیز سمیت پوری دنیا جس اقتصادی بحران کی طرف چل پڑی ہے اس کی وجہ سے ذرائع آمدنی میں اضافے کے راستے بھی مسدود ہوچکے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ یہی نظر آرہا ہے کہ حکومت سخت ترین اور سفاکانہ شرائط ماننے پر مجبور ہوگی۔ ڈالر کی شرح میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مہنگائی ملک کا سب سے بڑا اور لاینحل مسئلہ بن گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا آغاز 90 کی دہائی سے ہوا تھا اور اس کی رفتار میں جتنی تیزی گزشتہ تین برسوں میں نظر آئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، صرف ڈالر کی قیمت میں اضافے نے پورے اقتصادی ڈھانچے کو بدل دیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا فرق صرف چند چیزوں ہی میں نہیں پڑتا بلکہ پوری معیشت اس سے متاثر ہوتی ہے۔ ہماری معیشت بنیادی طور پر درآمدی اور صارفانہ ہے یہاں تک کہ زراعت کی پیداواری لاگت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ کھاد اور کیڑے مار ادویات سمیت کئی اشیا درآمد ہوتی ہیں۔ معیشت کا بنیادی مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے اور ہر حکومت کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ زرمبادلہ یعنی ڈالر کے ذخائر محفوظ رکھے جائیں جس کی ضرورت درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی دونوں کے لیے ضروری ہے۔ استعماری اور سامراجی سازشوں کی وجہ سے پاکستان مجبور ہے کہ وہ ڈالر کی قیمت کو بڑھنے دے۔ جس کی وجہ سے یکدم قرضوں کا حجم بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح درآمدی بل کی موٹائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ تمدنی ترقی کی وجہ سے شہریوں کی بنیادی ضروریات کی فہرست بھی بڑھ گئی ہے۔ اس وجہ سے چند اشیا پر زرتلافی دینے کے ذریعے عوام کو سہولت فراہم نہیں کی جاسکتی۔ مہنگائی میں اضافے نے ہر شخص کو پریشان کردیا ہے۔ کورونا کی وبا کے باعث عالمی اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں جنہوں نے روزگار کے بعض ذرائع ختم کیے ہیں۔ اس حوالے سے مہنگائی پر قابو پانے کے بارے میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر کسی کو بھی اعتبار نہیں ہے۔ وہ حزب اختلاف جس نے مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج کا اعلان کیا ہے وہ بھی موجودہ بحران کی ذمے داری سے کسی طرح نہیں بچ سکتی۔ موجودہ اقتصادی بحران ماضی کی غلط اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ بالخصوص نائن الیون کے بعد امریکی وار آن ٹیرر کے تحت پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے کیری لوگر بل سمیت جن زنجیروں میں جکڑا گیا ان میں آئی ایم ایف کا شکنجہ بھی ہے۔ اس کے بعد سے پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کی دھمکی دے کر اقتصادی مطالبات کے ساتھ سیاسی و تہذیبی احکامات بھی دیے جاتے ہیں۔ موجودہ سیاسی و اقتصادی بحران کو اس تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے ’’ڈومور‘‘ کا انکار کردیا ہے۔ سی پیک پر امریکا اور آئی ایم ایف علی الاعلا ن الزامات عاید کرچکے ہیں۔ ان خطرناک حالات میں پاکستان کی معیشت کو سنبھالنا قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ مہنگائی کی جو تازہ ترین لہر آئی ہے اور جس کے مزید بڑھنے کے خدشات صاف نظر آرہے ہیں، وہ حالات کو مزید خراب کریں گے۔ ان خطرناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جس بصیرت اور جہاں بینی کی ضرورت ہے اس سے ہماری قیادت محروم ہے۔ چاہے وہ حکومت میں ہو یا حکومت کی منتظر!