مقبوضہ کشمیر میں مائورائے عدالت قتل کا معاملہ اقوام متحدہ میں بے نقاب

125

اقوام متحدہ(اے پی پی) پاکستان نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بے نامی قبروں کا معاملہ ایک بار پھر اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے7دہائیوں کے مسئلے کی ایک تلخ حقیقت ہے جس کی
تحقیقات کی جانی چاہییں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کی ادائیگی میں کردار ادا کرے۔نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی ڈیلیگیٹ صائمہ سلیم نے معاشرتی، ثقافتی اور انسانی امور سے متعلق جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر ورکنگ گروپ کے مکالمے میں بھارتی جارحیت اور ظلم و جبر کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں چند سالوں کے دوران جبری گمشدہ افراد کی متعدد قبریں ملی ہیں جبکہ جبری گمشدگیوں، زیر حراست ہلاکتوں، خواتین کی بے حرمتی، عصمت دری ،غیرقانونی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل اورمتاثرہ افراد کے اہل خانہ کو دھمکانے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،اب تک تحقیقات سے معلوم ہوا کہ قابض بھارتی افواج نے پہلے متاثرہ افراد کو اٹھایا اور پھر انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارت جموں و کشمیر میں8ہزار جبری گمشدہ افراد کی ذمے داری لینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے اور7ہزار بے نامی قبروں کی فرانزک تحقیقات کرانے میں ہچکچارہا ہے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اسرائیل فلسطین کے 2 ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہو گا جب تک فلسطین اور کشمیر کے عوام غیرملکی قبضے میں مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے ،حالیہ دہائیوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ کی بڑ ی وجہ فلسطینیوں ، کشمیریوں اور دیگر مقبوضہ مسلم آبادیوں پر ظلم و جبرہے۔گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطی کی صورتحال پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ظلم و جبراور ناانصافیوں کے خاتمے اوردہشت گردی کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین اسرائیلی تنازع کا واحد حل 2 ریاستی حل ہے جس میں ایک خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی کارروائیاں سلامتی کونسل کی قراردادوں اورعالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں ۔