‘آلودہ اور شوروالے شہر میں رہائش دل کو متاثرکرسکتی ہے’

245

ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ اور شور والے شہر میں صرف تین سال رہنے سے بھی دل کے دورے کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔اس کے علاوہ تحقیقات سے معلوم ہوچکا ہے کہ فضائی آلودگی سے ڈیمنشیا، مردانہ کمزوری، سانس کے امراض، توجہ اور ارتکاز میں کمی، بے اولادی اور دیگر امراض بھی بڑھنے لگتے ہیں، یا ان سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اب ڈنمارک کی تحقیق سے آلودہ اور شور بھرے شہروں اور امراضِ قلب کے درمیان اہم تعلق دریافت ہوا ہے۔ بالخصوص شہروں میں رہنے والی 22 ہزار خواتین کو مسلسل دو عشروں تک نوٹ کیا گیا ہے، یہاں تک کہ ان میں ہارٹ فیل کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب آلودہ فضا اور زہریلے ذرات اور امراض کے درمیان تعلق کو بھی مدِنظر رکھا گیا۔ ان میں موجود پی ایم 2.5 اور دیگر مہلک ذرات خون میں شامل ہوکر دل، دماغ، پھیپھڑوں اور دیگر نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ ڈھائی مائیکرون کے آلودہ ذرات بزرگوں، بچوں اور حاملہ خواتین کو متاثر کرسکتے ہیں۔ کاروں سے خارج ہونے والی دوسری اہم گیس نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ہے جو سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے۔ دمے اور سانس کے مریضوں میں یہ گیس مرض کو مزید شدید کردیتی ہے اور الرجی کو بھی بڑھاتی ہے۔

ہارٹ فیل ہونے کی کیفیت میں دل ٹھیک سے خون پمپ نہیں کرسکتا اور جسم میں خون کی گردش متاثر ہونے سے سانس پھولنے، تھکن اور کمزوری کے حملے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مریض اپنے روزمرہ کے کام بھی نہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آلودہ ہوا سے شریانیں تنگ اور سخت ہوتی جاتی ہیں جبکہ دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔

ڈنمارک کی طویل تحقیق کوپن ہیگن یونیورسٹی نے کی ہے جس میں ہزاروں خواتین کو بیس سالہ مطالعے میں شامل کیا گیا تھا۔ 1990ء کے عشرے سے شروع ہونے والی تحقیق 2014ء میں اختتام پذیر ہوئی جس میں مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی اور شور کا ڈیٹا لیا گیا۔ پھر ان دونوں کیفیات کی بلند مقدار کا قلبی امراض سے تعلق نوٹ کیا گیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اگر پی ایم 2.5 کی مقدار فی مکعب میٹر پانچ مائیکروگرام تک بڑھ جائے تو اس سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 17 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار فی مکعب میٹر میں آٹھ اعشاریہ چھ مائیکروگرام پر پہنچ جائے تو ہارٹ فیل کا خدشہ مزید 10 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

 اب اگر کسی علاقے میں 24 گھنٹے تک شور کی اوسط مقدار 9 ڈیسی بیل پر پہنچ جائے تو اس سے دل کے ناکام ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس طرح نائٹروجن آکسائیڈ، ڈھائی پی ایم اور شور جیسے تینوں عوامل بڑھنے سے مجموعی طور پر دل کے دورے کا خطرہ 40 فیصد سے بھی بڑھ سکتا ہے۔