سندھ میں 12سو سے زائد نرسز کے گریڈ بڑھنے کا امکان

175

کراچی ( رپورٹ :حماد حسین) ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے مرکزی صدر اعجاز علی کلیری کا کہنا ہے کہ نرسز کے مسائل دن بہ دن حل ہو رہے ہیں، نرسز کا فور ٹیئر فارمولا منظور ہو چکا ہے اور اس کے رکروٹمینٹ رولز بھی منظورہوگئے ہیں۔

ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے مرکزی صدر نے کہا کہ نرسزکےگریڈ بڑھانے کے لیے  نوٹی فکیشن  کچھ دنوں میں نکل جائے گا، پہلے مرحلے میں نرسز کے گریڈ 16 سے گریڈ 19 تک نرسنگ ایجوکیشن اور نرسنگ سروسز کے 1200 سے زائد پروموشن ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیٹس گریڈ 17 کی سندھ پبلک سروسز کے ذریعے  بھری جائیں گی، باقی تمام پروموشن کے ذریعے ہونگی، اس وقت سندھ میں جتنی بھی سینئر نرسز ہیں انکے پروموشن ہو جائیں گے۔

اعجاز علی کلیری کا کہنا تھا کہ  سندھ کی نرسز کے پچھلے 25 سال سے پروموشن نہیں ہو رہے تھے اب نرسز کے اگلے گریڈ میں ترقیاں ہوں گی اور ایک عرصے سے نرسز میں بے یقینی جو تھی وہ ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ نے ختم کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ محکمہ صحت سے مل کر نرسنگ کی مزید آسامیاں منظور کروانے کے لیے کام کر رہی ہے اور جلد مزید آسامیاں منظور ہو جائیں گی کیونکہ اس وقت صوبے میں نرسز کی شدید قلت ہے اور ہمارے پاس مریضوں کا رش بڑہ گیا ہے اور کرونا وائرس کی وجہ سے سندھ گورنمنٹ نے بہت سارے یونٹ نئے کھول رکھے ہیں۔

اعجاز علی کلیری کا کہنا تھا کہ  ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ  صوبے میں نرسنگ کی جدید تعلیم اور اسپتالوں میں نئے ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کرتی ہے کہ سندھ کے غریب مریضوں کو بہتر سہولیات مل سکیں اور نرسنگ کا شعبہ بہتر ترقی کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کرتی ہے کہ نرسز کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں، نرسز کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈیپوٹیشن پالیسی کو واضح کیا جائے اور نرسز کو ہائر ایجوکیشن، ماسٹر ان نرسنگ اور پی ایچ ڈی نرسز کے لیے ملکی اور غیرملکی یونیورسٹی میں بھیجاجائے۔

 اعجاز علی کیلری کا کہنا تھا کہ نرسنگ کی جینرک چار سالہ ڈگری پروگرام کا وضیفہ بڑہا کر 30 ہزار کیا جائے اور ایم ایس این نرسنگ کرنے والے طلبہ کو بھی اسکالرشپ کی مد میں ماہانہ 40 ہزار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں نرسنگ کالجز کی بلڈنگ کی حالت زار ہے انکی مرمت کروائی جائے اور بہتر سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ نرسنگ کے شعبے کو مزید بہتر کر سکیں۔