حکومت نے پیٹرول کے نرخ بڑھا کر عوام کو بھوکا مارنے کا پلان بنالیا

91

سکھر( نمائندہ جسارت) آل سکھر اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے بانی و قائد حاجی محمد ہارون میمن نے کہا ہے کہ حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کی اشیائے خورو نوش بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو بھوکا مارنے کا پروگرام بنالیا ہے یوٹیلیٹی اسٹور کے گھی کی قیمت میں 109روپے فی کلو اضافہ صرف ظلم ہی نہیں بلکہ ظلم کی انتہا ہے۔ بجلی کے نرخ فی یونٹ 1روپے 68پیسے بڑھا کر پہلے سے ہی بہت مہنگی بجلی میں مزید اضافہ عوام کو نئی معاشی مشکلات میں دھکیل دے گا اور پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 10روپے فی لیٹر اضافہ عوام کو مہنگائی کے گہرے سمندر میں ڈبو دے گا۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر تاجروں اور شہریوں کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت حکمراں نہیں بلکہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے حوالے ہے عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں حکومت ہوش کے ناخن لے ، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے اس ملک و قوم کی جان چھڑائے انہوں نے کہا کہ اس وقت تاریخ کی بدترین مہنگائی ملک میں جاری ہے جس کی وجہ سے ملک معاشی طور پر ہر آنے والے دن کے ساتھ زوال پذیر ہورہا ہے جبکہ حکومت جھوٹے وعدے جھوٹی باتیں جھوٹے دلائل اور دھوکے پر مبنی پالیسیاں بنارہی ہے ایسے حالات میں تاجر طبقہ بہت بری طرح متاثر ہورہا ہے غریب عوام کی قوت خرید دم توڑ چکی ہے آٹا، چاول ، گھی، خوردنی تیل، دالیں، گرم مصالحے، سبزیاں، پھل فروٹ اور دیگر روز مرہ استعمال آنے والی اشیاء کی قیمتیں ساتویں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ حکومت اپنے وزراء کی شاہ خرچیاں کم کرے وفاقی اور صوبائی وزراء کی تعداد کم کی جائے غیر ضروری طور پر مقرر کیے گئے سیاسی سفارش والے مشیروں اور معاون خصوصی کو فارغ کیا جائے غیر ترقیاتی اخراجات پر پابندی لگائی جائے بڑی گاڑیوں کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے بجلی کے استعمال کو کم کرنے کیلئے تمام وزراء سیکریٹریز اعلیٰ افسران اور سرکاری دفاتر کو پابند کیا جائے کہ وہ توانائی کے بچائو کے انتظامات کرے انہوں نے وزیراعظم سے پرزور مطالبہ کیا کہ اگر مہنگائی کم نہ ہوئی اور اس کے منفی اثرات آئے تو اس کی ساری کی ساری ذمہ داری وزیراعظم اور موجودہ حکومت پر عائد ہوگی حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جس سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔