سندھ میں سائنس کی تعلیم کو تباہی سے بچایا جائے، ماہر تعلیم

85

کھڈرو (نمائندہ جسارت) سندھ میں سائنس کی تعلیم کو تباہی سے بچایا جائے، سائنس ہال کھنڈرات میں تبدیل،کروڑوں روپے کے سائنس فنڈز میں سے گزشتہ دس سال سے اسکولوں کو سائنس مٹریل کے لیے ایک روپیہ نہیں دیا جاتا، سندھ کے سائنسی اور تعلیمی فنڈز پر کون ڈاکا مار رہا ہے حکومت نوٹس لے۔ ان خیالات کا اظہار معروف ماہرِ تعلیم گزیٹڈ آفیسر ایسوسی ایشن سندھ کے صدر جان محمد ڈاہری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں پچاس ہزار ٹیچرز کی کمی میں زیادہ تعداد سائنس ٹیچرز کی ہے، پرانے زمانے میں سائنس ہال، تعلیمی اور سائنسی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتے تھے لیکن گزشتہ کئی سال سے کسی اسکول میں پریکٹیکل نہیں کرائے جاتے، نہ سالانہ امتحان میں پریکٹیکل لیے جاتے ہیں، صرف مارکس دے دیے جاتے ہیں، فرنیچر سمیت اسکول تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، سالانہ سائنس بجٹ کس کی جیب میں جارہا ہے، تحقیقات کی جائے۔ پہلے تو بچوں سے فنڈ لے کر ضروریات پوری کرلی جاتی تھیں لیکن حکومت کے ایک فیصلے میں تعلیم فری کے نام پر دیگر فنڈز کی طرح سائنس فنڈ لینے پر بھی پابندی ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ خصوصاً وزیرِ اعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ سندھ کی ڈوبتی تعلیمی کشتی کو ڈوبنے سے بچایا جائے۔