پاک بھارت دو طرفہ تجارتی تعلقات سے نمایاں اثرات مرتب ہوں گے

147

اسلام آبا(کامرس ڈیسک) پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی حالیہ رفتار نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے لیے بھی خوش آئند پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے۔ نائب صدر پی بی ایف احمد جواد کا کہنا تھا کہ “آپ دوست تبدیل کر سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں’’بھارت نے کچھ ماہ پہلے ہی اشارہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔سال 2020 میں ، بھارت کی پاکستان میں برآمدات 76.3 فیصد کم ہوکر 283 ملین ڈالر ہوگئیں جبکہ درآمدات 96.2 فیصد کم ہوکر صرف 25 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔ انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز برائے ریسرچ برائے تحقیقاتی کونسل کے ذریعہ 2013 میں “بھارت پاکستان تجارت کو معمول پر لانا” کے مطالعے کے مطابق بھارت اور پاکستان کے مابین تجارتی صلاحیتوں کا تخمینہ 11 بلین ڈالر سے 20 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ احمد جواد نے بریفنگ دی اگرچہ زیادہ تر بھارت اور پاکستان تجارت کا حصہ مستقل طور پر غیر رسمی ہے۔ اگر ان کے تجارتی اور تجارت کے تعلقات مستحکم ہوئے تو اس سے باضابطہ تجارت میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک تجارت اور کاروبار کی راہ ہموار کر کے ترقی یافتہ اور خوشحال ہوسکتی ہے ۔