ریاست مدینہ کے شارع محمد الرسول اللہؐ

270

میثاق مدینہ سے یہ بات طے ہوگئی تھی کہ مدینہ ایک ریاست ہے اور اس کے سربراہ سیدنا محمدؐ ہیں۔ نبی کریمؐ نے سب سے پہلے تو ان مہاجرین کی طرف توجہ دی جو اپنے گھر بار چھوڑ آئے تھے۔ اس کے بعد ان بے یارومددگار اصحاب کی طرف نظر کرم فرمائی جو تنہا تھے اور شوق علم اور رسول اللہ کی قربت کے پیش نظر کہیں جانا نہ چاہتے تھے اس لیے جب مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس کے ساتھ حجرے بھی قائم کردیے گئے تو ان اصحاب کے لیے ’’صفہ‘‘ نامی چبوترا بھی تکمیل کو پہنچا۔ معاشی صورت حال کچھ ایسی مستحکم نہ تھی کہ لوگ اصحاب صفہ کی طرف توجہ کرپاتے مگر پھر بھی اکثر نبی اکرمؐ کی نگاہ کرم انہی پر رہتی، جو صدقہ آتا کل ان کی طرف اور اگر ہدیہ آتا تو اپنی ضروریات کے بعد بچ رہنے والا بھجوا دیتے ’’سیدنا ابوہریرہؓ سے ایک طویل روایت ملتی ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ شدید بھوک میں وہ پیٹ پر پتھر باندھ لیتے اور اکثر زمین پر لیٹ کر بھوک مٹانے کی کوشش کرتے۔ ایک دن بھوک سے تنگ آکر راہگزر پر آبیٹھے جب سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا گزر وہاں سے ہوا تو ان سے ایک آیت کا مطلب جاننا چاہا۔ مگر اصل مقصد بھوک کا مداوا تھا۔ جب وہ دونوں مدعا نہ سمجھے تو خاموش ہورہے۔ پھر نبی اکرمؐ گزرے اور اصل ماجرا سمجھ کر انہیں گھر لے آئے۔ جب معلوم ہوا کہ ایک پیالہ دودھ بطور ہدیہ آیا ہے تو فرمایا۔ جائو اور اصحاب صفہ کو بلا لائو۔ اطاعت چوں کہ مقدم تھی اس لیے تمام کو بلا لائے اور سوچتے رہے کہ ایک پیالے دودھ سے کس کس کا بھلا ہوگا۔ جب بیٹھ گئے تو نبی محترمؐ نے حکم دیا کہ اباہر! یہ سب کو پلائو ایک ایک کرکے سب نے سیر ہو کر پیا اور دودھ پیالے میں موجود رہا پھر کہا اباہر اب تم پیو اور کئی بار اصرار کرکے پلایا یہاں تک کہ میرا شکم سیر ہوگیا پھر آپؐ نے خود نوش فرمایا‘‘
ریاست مدینہ میں جہاں غریبوں اور ناداروں کی کفالت رسول اللہؐ اور ان کے صحابہؓ دلجمعی کے ساتھ کررہے تھے وہیں کسی آزمائش کے موقع پر یہ سب مل کر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے اور ربّ تعالیٰ سے مدد کے خواست گار ہوتے۔ جنگ بدر کے موقع پر تعداد و سامان حرب کی کمی کے باوجود اللہ کی مدد و نصرت کے سہارے کفار کو شکست فاش ہوئی تو کچھ کفار قیدی بنا کر بھی لائے گئے اور جب قیدیوں کو رسیوں سے جکڑ دیا گیا تو نبی مہربانؐ بے سکون ہوئے۔ ’’یزید بن اصم نے حدیث اس طرح بیان کی ہے کہ بدر کے قیدیوں میں جناب عباس رسولؐ کے چچا شامل تھے۔ چناں چہ رسولؐ رات کو جاگتے رہے۔ اس پر آپؐ کے صحابہؓ سے کسی نے کہا یا نبی اللہؐ آپ کی نیند کیوں اُڑ گئی، تو آپؐ نے فرمایا، عباس کے کراہنے کی وجہ سے اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور جا کر عباس کی بندشیں ڈھیلی کردیں۔ آپؐ نے پوچھا کیا بات ہے کہ عباس کا کراہنا نہیں سن رہا ہوں۔ اس پر لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اس کی بندش کچھ ڈھیلی کردیں۔ آپؐ نے فرمایا جائو اور تمام قیدیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو‘‘۔
ہجرت کے بعد نبی اکرمؐ کا معمول تھا کہ بیماروں کی تیمارداری کے لیے تشریف لے جاتے حالتِ نزع کے وقت اکثر لواحقین نبی اکرمؐ کو اپنے یہاں لاتے، اس موقع پر اگر کوئی بے جا وصیت کرتا تو اسے درست انداز بتاتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اکثر نماز جنازہ خود پڑھاتے۔ سوائے ایسے مرحومین کے جن پر قرض واجب الادا ہو۔
یہ محبت و رحمت کے وہ واقعات ہیں جو نبی اکرمؐ نے اختیار کیے اس کے ذریعے مساوات، ایثار و محبت اور جذبہ قربانی کو اُجاگر کیا گیا۔ نبی محترمؐ جب تک اس دنیائے فانی میں موجود رہے اپنے قول و فعل کے ذریعے ریاست مدینہ کے وہ خدوخال ترتیب دیے جنہیں اپنا کر خلفاء راشدین اور دیگر حکمرانوں ے راہِ ہدایت پالی۔
نبی اکرمؐ میثاق مدینہ کے بعد پوری ریاست مدینہ کے لیے بحیثیت خلیفتہ اللہ بھی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ جب کہ اُمت مسلمہ کے لیے آپ کا مقام رسول اور نبی کے طور پر تھا۔ مدینہ کے لیے دیگر قبائل یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے بھی آپؐ کو اپنا قائد تسلیم کیا تھا۔ اس طرح آپؐ کو یہ شرف حاصل رہا کہ قانونی و شرعی امور میں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی رہنمائی ملتی رہتی تھی۔ ’’گویا مدینہ کی اسلامی ریاست الہامی اور آفاقی نوعیت کی تھی۔ رسول اللہؐ اسلامی ریاست کے اول و آخر شارع اور قانون ساز تھے۔
خلیفتہ اللہ کی حیثیت سے نبی کریمؐ کو تمام مذہبی اور سیاسی اختیارات حاصل تھے۔ سیاسی اختیارات میں قانون سازی کے علاوہ انتظامی، عدالتی اور فوجی اختیارات بھی شامل تھے۔ ان اختیارات میں سہولت کے خاطر کچھ نائبین بھی مقرر تھے جو خلیفہ، عمال، مشیر، کاتبین اور سفیر کہلائے۔
غزوات، حج و عمرہ اور دیگر معاملات کے پیش نظر رسولؐ مدینے سے باہر تشریف لے جاتے تو امامت اور انتظامی امور کے لیے اپنے صحابہؓ کو قائم مقام مقرر فرماتے۔ اکثر مواقع پر نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتومؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ یہ صحابی جسمانی معذوری کے علاوہ خاندانی اعتبار سے بھی معزز نہ تھے مگر ان کے زہد و تقویٰ اور بلند مقام کا تذکرہ قرآن کریم کی سورئہ عبس میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر نائبین میں سیدنا سباع بن عرفطہ غفاریؓ، عمرۃ القضناء سیدنا ابو رہم کلثوم بن حصین غفاریؓ، سیدنا علی بن ابی طالبؓ، سیدنا محمد بن مسلمہؓ قابل ذکر ہیں۔ ان سب نے نبی اکرمؐ کی عدم موجودگی میں محض نمازوں کی امامت نہیں کی بلکہ انتظامی امور کو چلانے کے لیے ضروری فیصلے بھی کیے۔
سیدنا عمر فاروقؓ کا عہد اس اعتبار سے بھی منفرد و ممتاز ہے کہ اس میں جمہوری روایات کے عین مطابق مشاورت کو اختیار کیا گیا ’’جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا تھا تو ہمیشہ ارباب شوریٰ کی مجلس منعقد ہوتی تھی اور کوئی امربغیر مشورے اور کثرت رائے کے عمل میں نہیں آسکتا تھا‘‘۔ شوریٰ کے ارکان انصار و مہاجرین کے اہم افراد تھے۔ جن میں بالخصوص سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ، سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا ابن کعبؓ، سیدنا زید بن ثابتؓ کے نام قابل ذکر ہیں۔
عہدِ فاروق میں فتوحات کے بعد بندوبست اور دیگر مالی امور کے حوالے سے ذمیؔ رعایا پارسی اور عیسائیوں سے بھی مشاورت کی جاتی تھی۔ ان کے یہاں رائج طریقوں کو مدنظر رکھ کر مزید اصلاحات کی گئیں، یوں مفتوحہ علاقوں میں زراعت و تجارت میں بڑی ترقی ہوئی۔