آئی ایم ایف کو چھوڑنے کا موقع

372

آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید قرض دینے سے انکار کردیا ہے اور مزید 525 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا حکم دیا ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی ٹیم کے منتخب کردہ پاکستانی وفد نے ہر طرح زور لگالیا۔ امریکی معاون خصوصی اور آئی ایم ایف سربراہ سے بھی ملاقات کرلی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بھلا غلاموں کی ملاقاتوں سے آقائوں پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ ایک تاثر دیا جارہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کو ہر صورت میں پاکستان اور دیگر ممالک کو قرض دینا ہے۔ پاکستان کے غلام ذہنیت والے نمائندے اپنی شرائط منوانے کے بجائے ہمیشہ آئی ایم ایف کی شرائط مان کر آجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان شرائط میں نئے ٹیکس لگانا پرانے ٹیکسوں کو بڑھانا سبسڈیز کم کرنا یا ختم کرنا۔ عوامی فلاح کے سرکاری ادارے بند کرنا اور اچھے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنا شامل ہوتا ہے اور ان سب کے اثرات اور نتائج عوام کو بھگتنے ہوتے ہیں۔ لہٰذا بڑے آرام سے یہ ٹیم قرضہ لے کر مذاکرات کی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے واپس آتی ہے۔ کامیابی کیسی… عوام کو بیچ کر آتے ہیں۔ اس تازہ صورت حال پر پاکستانی وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے دوبارہ ہوں گے۔ لیکن ان مذاکرات میں ہوگا کیا۔ اس کی اطلاع خود وزارت خزانہ کے ذرائع نے دے دی ہے کہ ایک ماہ میں پٹرول کی قیمت 150 روپے اور بجلی کے نرخوں میں ڈھائی روپے اضافہ ہوجائے گا۔ شاید اس کے نتیجے میں حکومت کو 52 ارب روپے مزید آمدنی ہوجائے اور وہ نئے قرضے لے سکے۔ اسے حکومت اپنی کامیابی قرار دے گی لیکن یہ کیسی کامیابی ہے۔ ایک تو خودکشی اس کے بعد مزید تباہی خود ہی قبر کھودو خود ہی اس میں لیٹ جائو۔ وزیراعظم عمران خان جس چیز کو خود کشی کہتے تھے وہ کرنے کے بعد روز اس کے اثرات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس سے ان کو اندازہ اور شرم دونوں ہوجانے چاہئیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم اب دونوں قسم کی حس سے محروم ہوچکے ہیں۔ خودکشی کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ لیکن اس خودکشی میں مسئلہ یہ ہے کہ خودکشی حکمران کرتے ہیں مرتے عوام ہیں۔ تباہی ملک کی ہوتی ہے۔ یہ حکمران کبھی بیرون ملک چلے جاتے ہیں کبھی بیمار ہو کر علاج کرانے لگ جاتے ہیں اور کبھی غائب ہوجاتے ہیں۔ وزرا نام کے کیڑے مکوڑے ہر حکومت میں نئی پارٹی میں یا پارٹی بدل کر کسی نہ کسی طرح شامل ہوجاتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے لیکن اس کو کامیابی کیوں کہا جارہا ہے۔ دو روز قبل حکومت نے پٹرول 138 روپے کا کیا ہے اس سے کچھ دن قبل 127 سے 133 روپے کا کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اپنے اندر بھی کوئی ایسا اختلاف ہے جس کی وجہ سے عین اس روز سرکاری ادارہ انکشاف کرتا ہے کہ کس قدر مہنگائی ہوگئی ہے، کتنی اشیا مہنگی ہوگئی ہیںجس روز حکومت بڑے بڑے دعوے کر رہی ہوتی ہے۔ اس مرتبہ تو نہایت دلچسپ صورت حال ہے، تقریباً تمام اخبارات نے خبر شائع کی ہے کہ شوکت ترین کے 6 ماہ میں قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ۔ اگرچہ ادارہ شماریات نے شوکت ترین ’’کے‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا ہوگا صرف گزشتہ چھ ماہ کی رپورٹ جاری کی ہوگی لیکن تمام اخبارات میں شوکت ترین کے چھ ماہ لکھا ہے گویا کہیں سے اشارہ دیاگیا ہے کہ شوکت ترین کے خلاف فضا بنائی جائے تا کہ چوتھا وزیر خزانہ لایا جاسکے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چھ ماہ کا حساب کیوں کیا جائے پورے تین سال کا جائزہ لیا جانا چاہیے جو صرف تباہی ظاہر کررہا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کے کامیاب اور ناکام ہونے کے ڈرامے کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک کے سرمایہ کاروں کو 29 ارب روپے کا خسارہ ہوگیا۔ مذاکرات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے نتیجے میں سرمایہ کار تذبذب کا شکار رہے۔ حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں، تاجروں اور سرمایہ کاروں نے پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو منی بجٹ قرار دیا ہے۔ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید قرض دینے سے منع کردیا ہے تو پاکستانی حکمران بھی ہمت کریں اور کہیںکہ ٹھیک ہے پھر ہم قرض نہیں لیتے اب ہمیں لیے ہوئے قرض کی واپسی میں ریلیف دیں۔ اب پاکستان کے لیے شرائط منوانے کا موقع آگیا ہے، اگر پڑوسی ملک آئی ایم ایف سے قرض لیے بغیر عوام کو ریلیف دے سکتا ہے تو پاکستان جیسا مضبوط ملک آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ سکتا ہے،بلکہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فی الحال قرض کی قسطوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہے ۔ لیکن اس کے لیے جرأت مند قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام عوام کے سوچنے کا ہے کہ وہ کس کو آگے لاتے ہیں اور بار بار چند سو لوگوں میں سے کچھ کو منتخب کرکے خود ہی سر پرسوار کرلیتے ہیں۔ حکومت کے خلاف احتجاج بھی الگ الگ ہورہا ہے اگر تین ٹکڑوں کے بجائے یہ احتجاج ایک جگہ سے ہو اور ان کے بارے میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تو شاید اس حکومت کو گھر بھیجنا ممکن ہو۔ لیکن کوشش ہونا چاہیے کہ اب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی غلامی نہیں چلے گی۔ جو ایسا کرے گا گھر جائے گا۔لیکن کوئی قوت تو ہے جو حکومت سے اپنی شرائط منوانے کے لیے اپوزیشن کو متحرک کر کے حکومت کو خوفزدہ کر رہی ہے۔گھبراہٹ کا یہ عالم ہے کہ حکومت کی جانب سے گرانی کم کرنے کے لیے جو دعوے کیے جارہے ہیں وہ بھی مضحکہ خیز ہیں۔ پہلا جملہ تو ہر وزیر یہی کہہ رہا ہے کہ ساری خرابیوں کی ذمے دار سابقہ حکومتیں اور اپوزیشن ہے، پھر احمقانہ بیان دیا گیا کہ آج چیزیں مہنگی تو کل سستی ہوں گی۔ اس بات کو کہنے والوں کو ذرا بھی حیا نہیں آئی، آج تک کوئی چیز مہنگی ہونے کے بعد سستی نہیں ہوئی۔ ملک امین اسلم نے تو زبردست بات کی ہے اس سے بھی وزیراعظم کی صلاحیت کا اندازہ ہوجانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تمام توجہ گرانی کنٹرول کرنے پر ہے، وہ ملک کو تمام بحرانوں سے نکالیں گے۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ غربت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ یہ بات وہ کہہ رہے ہیں جو غربت کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ فرخ حبیب نے کہا کہ اپوزیشن کو ٹائیگر فورس ہضم نہیں ہورہی… یعنی ان کے خیال میں ٹائیگر فورس کی مخالفت کی وجہ سے مہنگائی ہورہی ہے، یہ وزرا اپنی زبان بند رکھیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ لیکن کیا کہا جاسکتا ہے۔ اِدھر اُدھر سے جوڑ توڑ کر پکڑ دھکڑ کر لائیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔سارے نظام کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن ،نیب، وفاقی ادارے ، عدلیہ ، عسکری ادارے ان سب کو اپنے اپنے دائرے میں اور آئینی حدود میں رہنا ہوگا ۔